میرے ساتھ جیل میں دہشت گردوں جیسا سلوک ہو رہا: اعظم خان

سیتا پور جیل سے رامپور روانہ ہونے سے قبل اعظم خان نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ جیل میں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہاہے گویا وہ کوئی دہشت گرد ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سیتاپور: سماج وادی پارٹی سینئر لیڈر و رام پور رکن پارلیمان اعظم خان نے سنیچر کو ایک کیس کی سماعت کے لئے سیتاپور جیل سے رامپور کے لئے روانہ ہونے سے قبل کہا کہ ان کے ساتھ ’دہشت گرد جیسا سلوک روا کیا جارہا ہے‘۔ اعظم خان کو ایک کیس کی سماعت کے معاملے میں رامپور میں ایم پی۔ ایم ایل اے کورٹ میں پیش ہوناتھا۔رامپور روانہ ہونے سے قبل اعظم نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ جیل میں ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہاہے گویا وہ کوئی دہشت گرد ہیں۔

رکن پارلیمنٹ ان کے بیٹے عبداللہ کے ساتھ سیتاپور جیل میں سخت سیکورٹی کے درمیان جیل میں رکھا گیا ہے۔جبکہ ان کی بیوی و ایم ایل اے تزئین فاطمہ کو خاتون جیل میں رکھا گیا ہے۔ایس پی رکن پارلیمان جہاں جیل میں رات بھر سو نہیں پارہے ہیں وہیں بیوی تزئین نے کمر درد کی شکایت کی ہے۔

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعرات کو رکن پارلیمان اور ان کے کنبے سے سیتا پور جیل میں ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اعظم خاں کو سیاسی دشمنی میں جیل میں رکھا گیا ہے۔بیٹے عبداللہ اعظم کے فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ کے معاملے میں رامپور کی ایک عدالت میں خود سپردگی کے بعد عدالت نے اعظم خان اور ان کی بیوی و بیٹے کو 02 مارچ تک عدالتی تحویل میں جیل میں بھیج دیا تھا۔

وہیں دوسری جانب اعظم کنبے کو بغیر عدالت کو مطلع کیے رامپور جیل سے سیتا پور جیل منتقل کیے جانے پر جمعہ کو رامپور عدالت نے رام پور ضلع و جیل انتظامیہ سے جواب طلب کیا ہے۔اعظم کنبے کی جانب سے عدالت میں عرضی داخل کرنے والے وکیل دانش خان نے بتایا کہ ’’ہم نے عدالت کے سامنے مبینہ غلط طریقے سے تینوں لیڈران کو رامپور سے سیتا پور جیل منتقل کیے جانے کے خلاف عرضی داخل کی ہے۔

دانش خان کے مطابق درازی عمر کی وجہ سے اعظم اور تزئین کو کیس کی سماعت کے لئے سیتا پور سے رامپور تک کا ہر بار سفر کرنا پریشانی کا باعث ہوگا۔عدالت نے ضلع انتظامیہ اور جیل انتظامیہ سے اس بات پر جواب طلب کیا ہے کہ تینوں لیڈران کو عدالت کو مطلع کیے بغیر کیوں ٹرانسفر کیا گیا۔

اعظم خان کنبے کو جیل میں بھیجنے کے بعد رامپور پولیس نے کہا ہے کہ وہ عدالت سے دوسرے مقدمات میں بھی رکن پارلیمان کو ریمانڈ پر لینےکی اجازت طلب کرے گی۔اعظم خان کومجموعی طور سے 86 مقدموں کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جو رامپور ضلع انتظامیہ نے گزشتہ سال کے ماہ اپریل سے ان کے خلاف درج کیےگئے ہیں۔

وہیں دوسری جانب الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عبداللہ اعظم کو اسمبلی الیکشن کے لئے غیر مجاز قرار دئیے جانے کے بعد اترپردیش اسمبلی نے جمعرات کو عبداللہ اعظم کی اسمبلی سے رکنیت ختم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی سیٹ سوار کو خالی قرار دے دیا۔الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عبداللہ جس وقت اسمبلی انتخابات کے لئے منتخب ہوئے تھے ان کی عمر 25 سال نہیں تھی اس لئے وہ اسمبلی کی رکنیت کے لئے مجاز نہیں ہے۔ وہیں عبداللہ نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔