نفرت کے ماحول میں محبت کی مثال! مدھیہ پردیش میں ہندو بیٹی کا مسلم خاندان کرے گا ’کنیا دان‘
عبداللہ نے تقریباً 12 سال قبل نندنی کو نہ صرف گود لیا بلکہ اپنی بیٹی کی طرح اس کی پرورش کی۔ انہوں نے نندنی کو اپنی روایات اور مذہب کی پیروی کرنے کی مکمل آزادی دی اوراس کی گریجویشن بھی مکمل کرائی۔

ملک میں مختلف گروپوں کی جانب سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تار تا کرنے کی کوششوں کے دوران ایک بار پھرمحبت اور انسانیت کی شاندار مثال سامنے آئی ہے۔ تازہ معاملہ مدھیہ پردیش کے راج گڑھ ضلع کا ہے جہاں ایک مسلم خاندان کے گھر میں ہندو’بیٹی‘ کا کنیا دان (شادی) ہندو رسم و رواج کے مطابق کئے جانے کی تیاریاں شباب پر ہیں۔ نفرت کے اس دور میں سماجی ہم آہنگی کی یہ نایاب مثال پوری دنیا بالخصوص ہندوستان کے لیے ایک نظیر بن گئی ہے۔
خبروں کے مطابق ان دنوں راج گڑھ ضلع میں ایک شادی کا کارڈ لوگوں کے درمیان تجسس کا موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ کارڈ نندنی پرمار اور انش پرمار کی شادی کا ہے لیکن اس کارڈ کی خاص بات اس کے داعیان ہیں۔ کارڈ پر’الداعی‘ کی جگہ ایک مسلم خاندان کا نام لکھا ہے جواس بیٹی کا کنیا دان کرنے جا رہا ہے۔ ’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق عبداللہ خان نے تقریباً 12 سال قبل ایک سڑک حادثے اور بیماری میں اپنے والدین کو کھو دینے والی نندنی کو نہ صرف گود لیا بلکہ اپنی بیٹی کی طرح اس کی پرورش کی۔ خان خاندان نے نندنی کو اپنی روایات اور مذہب کی پیروی کرنے کی مکمل آزادی دی اور یہاں تک کہ اس کی گریجویشن بھی مکمل کرائی۔
عبداللہ خان کے خاندان نے کبھی بھی نندنی کو مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا بلکہ اسے پوری آزادی دی اور اس کے ساتھ ہی ہندو روایات کے درمیان پرورش کی۔ اس خاندان نے نندنی کو تعلیم کی بھی ترغیب دی اور گریجویٹ کرنے میں ہر ممکن مدد کی۔ اپنی تعلیم کے دوران نندنی کی ملاقات گوالیار کے رہنے والے انش پرمار سے ہوئی اور دونوں خاندانوں کی رضامندی سے شادی طے پائی۔
اس جوڑے کی آج (4 اپریل) راج گڑھ میں مقررہ پروگرام کے تحت پوری طرح ہندو رسم ورواج کے ساتھ شادی ہورہی ہے۔ تقریب شام 7 بجے شہر کے اولڈ کلکٹریٹ روڈ پر واقع خاندان کی رہائش گاہ پر شروع ہوگی۔ یہاں مسلم خاندان کی موجودگی میں پنڈت منتروں کا جاپ کریں گے اور روایتی رسم و رواج کے مطابق شادی کی تمام رسومات مکمل کریں گے۔ اس سلسلے میں مسلم خاندان کے ارکان بھی مہینوں سے اس شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں تاکہ وہ اپنی پیاری بیٹی کو یادگار وداعی دے سکیں۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہ جاتا ہے بلکہ یہ ہندوستان کی روایت اور ثقافت کی یاد دلاتا ہے جہاں زمانہ قدیم سے مختلف مذاہب کے پیروکار ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں برابر شریک ہوکر گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ یہ نظارہ اسی ثقافت کی گواہی دیتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کا رشتہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ راج گڑھ کا یہ خاندان آج ملک کے سامنے ’تمام مذاہب کا احترام‘ کی شاندار مثال پیش کررہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔