کیرالہ میں نیپا وائرس سے نوجوان کی موت، مرکز نے ماہرین کی ٹیم بھیجی

ریاستی وزیر صحت وینا جارج نے تاہم کہا کہ متاثرہ کے نمونے کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، پونے کو بھیجا گیا، جس میں نپیا وائرس کی تصدیق ہوگئی تھی۔

کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
کورونا وائرس، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے کیرالہ میں نیپا وائرس کی وجہ سے ایک نوعمر لڑکے کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (این سی ڈی سی) کی ایک ٹیم کیرالہ روانہ کی ہے۔ مرکزی وزارت صحت نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ وزارت نے بتایا کہ کیرالہ کے قاضی کوڈ کا 12 سالہ لڑکا جس میں انسیفلائٹس اور مایوکارڈائٹس کی علامات پائی گئی تھیں، 3 ستمبر (جمعہ) کو نیپا وائرس سے متاثر ہونے کا شبہ تھا۔ نوجوان کو اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں آج اس کی موت ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کی ٹیم ریاست کو تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ ریاستی وزیر صحت وینا جارج نے تاہم کہا کہ متاثرہ کے نمونے کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی، پونے کو بھیجا گیا، جس میں نپیا وائرس کی تصدیق ہوگئی تھی۔ ڈاکٹر جارج نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’بدقسمتی سے آج صبح پانچ بجے لڑکے کی موت ہوگئی۔ ہفتے کی رات سے نوجوان کی حالت انتہائی نازک تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور متاثرہ افراد کا سراغ لگانا شروع کر دیا ہے۔ متاثرہ کے ساتھ رابطے میں آنے والے تمام افراد کو الگ تھلگ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔


مرکز نے ریاست کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر صحت عامہ کے اقدامات شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 دنوں کے دوران اہل خانہ، گاؤں اور دیگر ایسی جگہوں پر فعال کیسز کی تلاش شروع کی گئی ہے اور متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں آنے والے مشتبہ افراد کو قرنطینہ اور الگ تھلگ کرنے کے لیے اور ان کے نمونے لیبارٹری میں جانچنے کے لیے بھیجنے کے لیے دیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نیپا وائرس کا پہلا کیس 19 مئی 2018 کو کیرالہ کے ضلع قاضی کوڈ میں رپورٹ ہوا تھا۔ اس کے بعد یہ ضلع ملاپورم میں پھیل گیا۔ یہ وائرس چمگادڑوں کے لعاب کے ذریعے پھیلتا ہے۔س

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔