گجرات میں اسکولی بچوں سے لکھوایا جا رہا ’شہریت قانون‘ کی حمایت میں خط

گجرات کے اسکولی بچوں کو پی ایم او کے نام ایسا خط لکھنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے جس میں شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کی جائے۔ اس سے قبل انہی بچوں سے طلاق ثلاثہ کی حمایت میں بھی چٹھیاں لکھوائی گئی تھیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ایک طرف پورے ملک میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے زور و شور سے جاری ہیں اور دوسری طرف اس قانون کے حق میں مرکزی حکومت اور بی جے پی حکمراں ریاستی حکومتیں اپنی مہم چلا رہی ہیں۔ اسی ضمن میں گجرات کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) کے نام ایک ایسا خط لکھوائے جانے کی بات سامنے آئی ہے جس میں شہریت ترمیمی قانون کی حمایت کی گئی ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے لیے اسکولی بچوں کو مجبور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق انہی بچوں سے طلاق ثلاثہ کی حمایت میں بھی چٹھیاں لکھوائی گئی تھیں۔

گجرات میں اسکولی بچوں سے لکھوایا جا رہا ’شہریت قانون‘ کی حمایت میں خط

اس سلسلے میں حکومت گجرات کے ایک افسر سے جب بات کی گئی تو انھوں نے خط لکھنے کے لیے بچوں کو مجبور کیے جانے جیسی باتوں کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہا اس طرح کی کوئی ہدایت جاری نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ اس سلسلے میں ان کا یہ ضرور کہنا ہے کہ انھیں اس سلسلے میں مقامی بی جے پی کارکنان اور لیڈروں نے زبانی طور پر حکم دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اسکولی بچوں کو پہلے سے تحریر کردہ ایک خط بلیک بورڈ پر لکھ کر اسے کاپی کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ یہ خط ایک نامعلوم ذرائع نے وائرل کر دیا ہے جس میں ہر اسکولی بچے کو کم از کم 50 پوسٹ کارڈ صاف تحریر میں پی ایم او کو بھیجنے کے لیے کہا گیا ہے۔

گجرات میں اسکولی بچوں سے لکھوایا جا رہا ’شہریت قانون‘ کی حمایت میں خط

قابل ذکر ہے کہ گجرات میں بی جے پی کے لیڈران شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر پر کسی بھی بحث سے پرہیز کر رہے ہیں۔ وہیں شہریت قانون کے کلاف کسی بھی مظاہرہ پر غیر قانونی طور پر پابندی بھی عائد ہے۔ ساتھ ہی اس طرح کے کسی بھی مظاہرے کے لیے اجازت دینے سے انتظامیہ کے ذریعہ صاف انکار کیا جا رہا ہے۔ روہت پرجاپتی نامی ایک سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ ’’جب ان لوگوں نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں ہندو بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں تو وہ گھبرا گئے۔ وہیں اگر صرف مسلم مخالفت کر رہے ہوتے تو انھیں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ لیکن جب ہر ذات کے ہندو بھی بی جے پی کی منشا اور گیم پلان کے خلاف کھڑے ہو گئے تو ان میں گھبراہٹ نظر آ رہی ہے۔‘‘

پرجاپتی مزید بتاتے ہیں کہ گجرات میں بی جے پی اس ایشو پر کنفیوز ہے۔ پی ایم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس ایشو پر پارلیمنٹ میں اور عوامی اجلاس میں الگ الگ باتیں بول کر لوگوں کو مزید کنفیوز کر دیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں میں حکومت کا بیان اس ایشو پر بدل گیا ہے۔ پرجاپتی کا کہنا ہے کہ ’’ہم بی جے پی لیڈروں سے اس ایشو پر عوامی بحث کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ اس سے پرہیز کر رہے ہیں۔‘‘

ایک وکیل شمشاد پٹھان کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ ’’وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ گجرات یونیورستی سے اس قانون کی مخالفت کرنے والے حراست میں لیے گئے کل 81 لوگوں میں سے صرف 9 ہی مسلمان ہیں۔‘‘ اس درمیان آئی آئی ایم احمد آباد کے ایک پروفیسر سمیت پانچ شہریوں نے گجرات ہائی کورٹ میں احمد آباد پولس کمشنر کے ذریعہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کرنے اور بامبے پولس ایکٹ کی دفعہ 37 نافذ کرنے کے فیصلے کو چیلنج دیا ہے۔ عرضی دہندہ نے کہا ہے کہ ان دفعات کو شہر میں نافذ کرنے سے احمد آباد ایک طرح سے غیر یقینی جنگی دور میں پہنچ گیا ہے اور اس سے شہریوں کو مستقل خطرہ ہے۔ عرضی میں ایسے حکم اور پولس کمشنر کے حلقہ اختیار کی آئینی حقیقت کو چیلنج پیش کیا گیا ہے۔ اس عرضی پر 9 جنوری کو سماعت ہونی ہے۔