تعلیمی میدان میں بہتری ہی مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی ضامن: ڈاکٹرعبدالقدیر

ڈاکٹرعبدالقدیر نے مزید کہ کہا کہ ہمیں اس اہم مقصد کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کی مدد لینی ہوگی، جوکہ تعلیمی اداروں کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔

ڈاکٹرعبدالقدیر، تصویر یو این آئی
ڈاکٹرعبدالقدیر، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ممبئی: ملک میں مسلمانوں میں جو ہلکی سی بیداری تعلیم کے شعبے میں پیدا ہوئی ہے، اس پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے اور تعلیم کے میدان میں بہتری کے لیے جگہ جگہ اپنے تعلیمی ادارے اور درسگاہیں قائم کرنے کے عمل میں اور تیزی لانا اور تعلیم کے حصول کو ترجیح دینی چاہیے اور اقامتی درسگاہوں کی خصوصی ضرورت ہے، یہی چیز مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی ضامن ہو گی، ان خیالات کا اظہار شاہین گروپس آف انسٹی ٹیوشن کے روح رواں ڈاکٹر عبد القدیر نے نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران یہاں کیا۔

انہوں نے مزید کہ کہا کہ ہمیں اس اہم مقصد کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور ان لوگوں کی مدد لینی ہوگی، جوکہ تعلیمی اداروں کو ایک نئے انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ شاہین گروپس آف انسٹی ٹیوشن کرناٹک کے شہر بیدر میں واقع ہے، بیدر میں مسلمان 19 فیصد ہیں، لیکن کرناٹک کا یہ تاریخی شہر بہمنی سلاطین کا پایہ تخت رہ چکا ہے، اقامتی تعلیمی ادارہ شاہین گروپس آف انسٹی ٹیوشن کے لیے بیدر مشہور ہوگیا ہے اور اس کی وجہ یہاں تعلیمی انقلاب برپا کر دیا اور اس کا اعتراف غیر مسلم بھی کرتے ہیں۔


ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا کہ ان کے ادارہ شاہین کی ملک کے مختلف علاقوں میں مراکز اور شاخیں قائم کی گئی ہیں، انہوں نے مسلمانوں میں جس نئے فارمولے کے ساتھ تعلیمی بیداری پیدا کی ہے، اس کی وجہ سے اقلیتی فرقے کو تعلیم کی حصولیابی آسان مرحلہ ہوسکتا ہے، لیکن اس مقصد کے لیے کس حد تک محنت کی گئی ہے اور ایماندارانہ کوشش کا ثمر بھی مل رہا ہے، جنوبی ہند کی پڑوسی ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ دور افتادہ خطوں جیسے آسام، اترپردیش، بہار وغیرہ میں بھی شاخیں قائم کی گئی ہیں، جبکہ بیدر شہر کے اس اقامتی کیمپس درسگاہ میں تقریباً ساڑھے چار ہزار طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ شہر کے طلبہ بھی روزانہ تعلیم کی غرض سے آتے ہیں۔

ان کے مطابق شاہین کے ذریعہ کامیاب تجربہ کیا گیا اور اس کو حفظ القرآن پلس کا نام دیا گیا، اس مشن کے 2 بڑے فوائد سامنے آئے ہیں کہ حفاظ قرآن کو عصری تعلیم حاصل کرنے کا مواقع ملے اور انھوں نے حفظ قرآن کی برکت سے NEET اور CET کے امتحانات پاس کیے۔ اور معاشرے میں بحثیت حافظ ڈاکٹر اور حافظ انجینئر وغیرہ اپنا مقام رکھتے ہیں۔ آج متعدد حافظ ڈاکٹر اور انجینئر بن گئے ہیں اور والدین نے بھی اپنے بچوں کو حافظ بنانا شروع کر دیا۔ شاہین کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیاد ہ حفظ القرآن پلس کے سنٹرس کھلیں۔


انہوں نے کہا کہ شاہین کیپمس میں منتظمین نے ہمیشہ ہی ڈسپلن، دینی ماحول اور طالبات کی عزت واحترام اور پردہ کا پورا پورا خیال رکھا ہے، ان سے کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا ہے، طالبات کے رہائشی احاطہ کی خصوصی نگرانی اور تحفظ کے بھر پور انتظامات کیے گئے ہیں۔ کیمپس کے چپہ۔ چپہ پر سی سی ٹی وی نصب ہیں اور 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔ جبکہ طعام و رہائش کے انتظامات بھی قابل ستائش ہیں، اگر نیک نیتی اور ایمانداری سے کسی بھی تعلیمی ادارے میں بہتر اقدامات کیے جائیں تو ہر طرح کی رکاوٹ کو دور کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستانی مسلمانوں میں 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد اچانک تعلیمی بیداری پیدا ہوگئی اور معروف بزرگ صحافی کلدیپ نیئر ہمیشہ اس تعلق سے اظہار کرتے رہے، لیکن قوم میں تعلیمی میدان میں ترقی کے بعد اچانک دوعشرے بعد پھر وہی چال بے ڈھنگی کا عالم پیدا ہوگیا ہے، البتہ ملک کے کئی شہروں اور خطوں میں انفرادی طور پر متعدد افراد ملت کے نوجوانوں کی بہتر تعلیم اور بیداری کے لیے بڑی تندہی اور فکر مندی سے سرگرم ہیں اور اس کے لیے محنت وجدوجہد بھی کر رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔