اراولی معاملہ پر سپریم کورٹ نے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی، 3 ماہ میں کانکنی اور پہاڑیوں پر پیش کرے گی رپورٹ
عدالت عظمیٰ کی جانب سے تشکیل دی گئی 5 رکنی کمیٹی کی آخری رپورٹ اور اس پر غور کئے جانے تک پورے اراولی علاقے میں کانکنی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت 7 ستمبر کو ہوگی۔

سپریم کورٹ نے ماحولیاتی طور پر حساس اراولی رینج کی یکساں تعریف طے کرنے کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ مستقبل میں کانکنی سے متعلق سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔ اس کمیٹی کو 31 اگست 2026 تک اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت کی صدارت والی بینچ کی جانب سے 25 مئی کو منظور حکم کے مطابق اس کمیٹی کی صدارت کونسل آف فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (آئی سی ایف آر ای) کی ڈائریکٹر جنرل کنچن دیوی کریں گی۔
اراولی رینج کی یکساں تعریف طے کرنے کے لیے بنائی گئی 5 رکنی کمیٹی میں کنچن دیوی کے علاوہ 4 ارکان ڈاکٹر سبھاش آسوتوش (فاریسٹ سروے آف انڈیا کے سابق ڈائرکٹر جنرل)، ڈاکٹر راجندر کمار شرما (جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر)، برج بھوش سنگھ راٹھور (وزارت ماحولیات کے سابق جوائنٹ سکریٹری) اور پروفیسر اشوک کے بھٹناگر (دہلی یونیورسٹی کے شعبہ نباتیات کے سابق سربراہ) شامل ہیں۔
عدالت نے کہا کہ اس سلسلے میں اپنائی جانے والی کوئی بھی کارروائی معلوماتی، سائنسی اعتبار سے درست اور ماحولیاتی تحفظ نیز پائیدار ترقی کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیئے۔ عدالت نے کمیٹی کو اپنے مطالعے کے دوران ’مختلف اور متضاد پہلووں‘ کا دھیان رکھنے اور دہلی، راجستھان، ہریانہ ریاستوں، ماہرین ماحولیات، غیر منافع بخش تنظیموں، کان کنی پٹہ ہولڈرس، منصوبہ حامیوں، دیہی عوام، کسانوں اور مقامی لوگوں سمیت سبھی اسٹیک ہولڈروں کو شامل کرنے کا حکم دیا جن کا ذریعہ معاش بارہ راست طور پر اراولی پہاڑیوں سے وابستہ ہے۔
منگل کی رات عام کئے گئے حکم میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ کمیٹی سے امید کی جائے گی کہ وہ ایسا راستہ دکھائے جس سے عدالت کو کوئی فیصلہ لینے میں مدد مل سکے۔ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ لینے کے بعد ایسے نتائج نہ آئیں جنہیں بعد میں پلٹنا مشکل یا ناممکن ہو۔ بتا دیں کہ عدالت عظمیٰ نے کمیٹی کی آخری رپورٹ اور اس پر غور کئے جانے تک پورے اراولی علاقے میں کان کنی پر پابندی لگا دی ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت 7 ستمبر کو ہوگی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
