اراولی رِج میں سڑک کی تعمیر: ڈی ڈی اے کی سپریم کورٹ سے اجازت کی درخواست

دہلی ترقیاتی اتھارٹی نے اراولی رِج میں سڑک کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ سے اجازت مانگی ہے۔ منصوبے کے تحت درختوں کی کٹائی یا منتقلی اور جنگلاتی زمین کے محدود استعمال کی درخواست دی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: دہلی ترقیاتی اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے اراولی رِج کے علاقے میں سڑک کی تعمیر کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اتھارٹی نے عدالت عظمیٰ میں داخل اپنی درخواست میں 473 درختوں کو کاٹنے یا دوسری جگہ منتقل کرنے اور 2519 چھوٹے پودوں کو ہٹا کر متبادل مقامات پر لگانے کی اجازت طلب کی ہے۔ یہ سڑک مرکزی مسلح پولیس فورسز کے طبی علوم کے ادارے اور مرکزی مسلح پولیس فورسز کے لیے قائم اسپتال تک رسائی کو آسان بنانے کے مقصد سے تجویز کی گئی ہے۔

ڈی ڈی اے کے مطابق مجوزہ سڑک کی تعمیر کے لیے مورفولوجیکل رِج کے 0.79 ہیکٹیئر رقبے میں کام کیا جائے گا، جبکہ مجموعی طور پر 2.97 ہیکٹیئر جنگلاتی زمین کے استعمال کی اجازت مانگی گئی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کے لیے 3.6 ہیکٹیئر جنگلاتی زمین درکار بتائی گئی تھی، تاہم ماحولیاتی اثرات کو کم سے کم رکھنے کے لیے منصوبے میں ترمیم کی گئی اور مطلوبہ رقبہ گھٹا دیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ ماحولیاتی تلافی کے طور پر دہلی کے دوارکا علاقے کے دھولسیرس میں 3.68 ہیکٹیئر زمین پر نئے درخت لگائے جائیں گے۔ ڈی ڈی اے کا دعویٰ ہے کہ منصوبے کا ڈیزائن اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ کم سے کم جنگلاتی علاقہ متاثر ہو اور سبز احاطے کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔


یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب 29 دسمبر کو سپریم کورٹ نے اراولی پہاڑیوں کی تعریف سے متعلق اپنے سابقہ احکامات کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ یہ ایک حساس موضوع ہے اور اس پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے، کیونکہ ماہرین کی کمیٹی کی رپورٹ اور عدالت کے سابقہ مشاہدات کی مختلف تشریحات کی جا رہی ہیں۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریاکانت کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے کی، جس میں جسٹس جے کے ماہیشوری اور جسٹس اے جی مسیح بھی شامل تھے۔ بنچ نے ازخود نوٹس پر درج مقدمے، اراولی پہاڑیوں اور ان کی تعریف سے جڑے مسائل، میں نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت 21 جنوری کو مقرر کی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ جب تک ایک نئی اعلیٰ سطحی ماہر کمیٹی تشکیل نہیں دی جاتی، اس وقت تک سابقہ کمیٹی کی سفارشات اور عدالت کے پرانے احکامات نافذ العمل نہیں ہوں گے۔ سپریم کورٹ کا موقف ہے کہ کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل سائنسی، ماحولیاتی اور ارضیاتی پہلوؤں کا جامع جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔