کشمیر کے حالات کا اثر: جموں میں تجارتی سرگرمیاں روبہ زوال

جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر راکیش گپتا نے کہا کہ صوبہ جموں میں 5 اگست کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں زائد از 50 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ بقول ان کے ریاست کی معیشت ایک دوسرے خطے پر منحصر ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

جموں: مرکزی حکومت کے پانچ اگست کے فیصلوں، جن کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کی گئی اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا، کے خلاف جہاں وادی کشمیر میں جاری غیر اعلانیہ ہڑتال کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں تواتر کے ساتھ متاثر ہیں وہیں جموں صوبے میں ہڑتال نہ ہونے کے باوجود تجارت کی رفتار انتہائی دھیمی ہے جس کے نتیجے میں بڑے تاجروں سے لیکر چھوٹے دکاندار سخت پریشان ہیں۔

بتادیں کہ وادی کشمیر میں گزشتہ زائد از ڈھائی ماہ سے جاری غیر اعلانیہ ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں، تجارتی و تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں اور سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہے تاہم جہاں ہر طرح کی انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں وہیں فون خدمات پر عائد پابندیوں کو رفتہ رفتہ ہٹایا جارہا ہے۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر راکیش گپتا نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ جموں میں پانچ اگست کے بعد تجارتی سرگرمیوں میں زائد از 50 فیصد کمی آئی ہے کیونکہ بقول ان کے ریاست کی معیشت ایک دوسرے خطے پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'جموں میں تجارتی سرگرمیوں میں زائد از پچاس فیصد کمی آئی ہے۔ دراصل ریاست کی معیشت ایک دوسرے خطے پر منحصر ہے۔ جب بھی کوئی خطہ متاثر ہوجاتا ہے تو اس کا اثر سبھی تین خطوں میں دیکھا جاتا ہے'۔ ان کا مزید کہنا تھا 'جموں میں تجارت ٹھپ ہوجانے کی ایک وجہ انٹرنیٹ خدمات پر عائد پابندی بھی ہے۔ جب ہمیں انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی ایشو کا حوالہ دیا جاتا ہے تو ہمیں اس وقت چپ رہنا پڑتا ہے'۔ جموں کے دکانداروں کے ایک گروپ نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ اگست سے جہاں وادی میں تجارتی سرگرمیاں بند ہیں تو وہیں جموں میں بھی تجارتی سرگرمیاں سنبھل نہیں رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'پانچ اگست سے وادی میں ہڑتال ہے جس کی وجہ سے وہاں تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہیں لیکن جموں میں اگرچہ ہڑتال نہیں ہے اور نہ ہی بجز موبائل انٹرنیٹ کے، مواصلاتی نظام پر کوئی پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود یہاں تجارتی سرگرمیوں میں زائد از پچاس فیصد کمی آئی ہے'۔ ایک دکاندار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے حالات کا اثر جموں پر براہ راست پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'وادی کے حالات جموں کے حالات کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، وادی میں ہڑتال کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں بند ہوجاتی ہیں تو یہاں بھی تجارت متاثر ہوجاتی ہے جس سے یہاں تجارت پیشہ لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے'۔

ایک دکاندار نے کہا کہ جموں کی تجارتی سرگرمیاں بھی پانچ اگست سے روبہ زوال ہیں اور یہاں کے بازاروں میں بھی معمول کی گہما گہمی مفقود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'پانچ اگست سے جموں کے بازاروں میں بھی تجارتی سرگرمیاں روبہ زوال ہیں، بازاروں میں معمول کی گہما گہمی مفقود ہے، دیوالی کے پیش نظر بازاروں کو تو سجایا گیا ہے لیکن جو بازاروں میں دیوالی سے چند روز قبل گہما گہمی رہا کرتی تھی وہ فی الوقت مفقود ہے، لوگ بھی پریشان ہیں اور دکاندار بھی مایوس ہیں'۔ موصوف دکاندار نے مزید کہا کہ یہاں ماتا ویشنو دیوی کے لئے آنے والے یاتریوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ان دنوں یاتریوں کا رش ہوا کرتا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ موبائل انٹرنیٹ پر عائد پابندی ہے۔

وشال نامی ایک تاجر نے کہا کہ 'یہاں رگھو ناتھ بازار، پرانی منڈی، افسرا بازار وغیرہ میں ان دنوں جو گہما گہمی رہا کرتی تھی وہ کہیں بھی نظر نہیں آتی ہے کیونکہ وادی کے حالات سے یہاں بھی تجارت متاثر ہوئی ہے اور یہاں بھی کہیں نہ کہیں غیر یقینی صورت حال چھائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں ایک پریشان کن کیفیت طاری ہے'۔ دریں اثنا اگرچہ دربار مو کے پیش نظر جموں کی سڑکوں کو رنگ و روغن سے سنوارا جارہا ہے جس سے بازاروں میں گہما گہمی متوقع ہے لیکن بیشتر دکاندار مایوس ہی ہیں۔ ایک دوکاندار نے کہا کہ دربار مو سے یہاں تجارتی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہونے کی توقع کرنا فضول ہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'دربار مو کے پیش نظر بازاروں اور سڑکوں کو تو سجایا سنوارا جارہا ہے لیکن اس سے یہ توقع رکھنا فضول ہی ہے کہ یہاں تجارتی سرگرمیاں بڑھ جائیں گی، سکریٹریٹ ملازموں سے تو بازاروں میں بھیڑ میں قدرے اضافہ تو ضرور ہوگا لیکن تجارتی سرگرمیاں اس قدر نہیں بڑھ جائیں گی جس قدر یہاں ان دنوں ہوا کرتی تھیں'۔ موصوف دکاندار نے کہا کہ جب تک وادی میں مواصلاتی نظام پوری طرح بحال نہیں ہوگا تب تک یہاں بھی تجارتی سرگرمیاں متاثر رہیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ وادی میں پانچ اگست کو تمام تر مواصلاتی ذرائع پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم قریب ایک ماہ بعد لینڈ لائن سروس کو بحال کیا گیا تھا اور بعد ازاں حال ہی میں پوسٹ پیڈ موبائل سروس کو بحال کیا گیا ہے لیکن موبائیل اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس مسلسل معطل ہے جس سے مختلف شعبہ ہائے حیات بالخصوص صحافیوں اور طلبا کو گوناگوں مشکلات ومسائل کا سامنا ہے۔