نئی دہلی: جامعہ طلبا کے حق میں سڑکوں پر اترے 30 مساجد کے امام

پولس کے ذریعہ مسجد میں گھس کر طلبا پر کارروائی کے خلاف اماموں نے بھی آواز اٹھائی۔ انھوں نے کہا کہ پولس نے کس منشا سے مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ بدسلوکی کی، اس کا جواب حکومت کو دینا چاہیے۔

تصویر قومی آواز/ وپین
تصویر قومی آواز/ وپین
user

یو این آئی

نئی دہلی: جامعہ نگر علاقے کی کئی مسجدوں کے امام آج سڑک پر اتر کر شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ مختلف مسجدوں کے امام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکزی دروازے پر آکر طلبہ کے ساتھ متحد نظرآئے اور ان پر اتوار کے روز ہوئی پولس بربریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اس درمیان اماموں نے طلبا سے پرامن مظاہرے کی اپیل کی اور کہا کہ آئین بچانے کی اس لڑائی میں وہ طلبا کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ملک میں بابا صاحب امبیڈکر کے آئین پر ہمیں پورا بھروسہ ہے اور آئین سے چھیڑخانی کسی بھی حال میں برداشت نہیں ہے۔

خلیل اللہ مسجد کے امام نے کہا کہ ہم مسجدوں میں رہتے ہیں لیکن ملک اور آئین پر جس طرح کا خطرہ منڈرا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے سڑک پر اترے ہیں۔ اماموں نے اتوار کی رات پولس کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ دھکا مکی کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولس کس منشا سے مسجد میں گھس کر امام کے ساتھ بدسلوکی کی، اس کا جواب حکومت کو دینا پڑے گا۔ طلبا کے ساتھ مجرمین سے بھی برا سلوک کیا گیا جو بے حد شرمناک ہے۔

سڑکوں پر اترے اماموں نے انتہائی مہذب انداز میں جامعہ طلبا کے حق میں آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ شہریت قانون کے خلاف بھی اپنی بات رکھی۔ انھوں نے جامعہ کے دروازے پر جمع سبھی طلبا سے کسی بھی طرح کی اشتعال انگیز تقریر سے بچنے اور ڈسپلن میں رہ کر اپنی تحریک چلانے کی اپیل کی ہے۔اماموں نے کہاکہ شہریت قانون کے خلاف لڑائی لمبی ہے،اس لئے مکمل طورپر صبروتحمل سے کام لیں۔

شہریت قانون کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے پیر کو دن بھر جامعہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور رات بھر کےلئے تحریک کو ملتوی کردیاتھا۔منگل کی صبح 10بجے طلبہ اور مقامی لوگ جامعہ کے باہر پھر سے جمع ہونے لگے۔اسی دوران قریب 30مسجدوں کے امام یہاں پہنچے اور سڑک کے کنارے بیٹھ کر اپنا احتجاج ظاہر کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولس کے ذریعہ زبردستی گھس کر مبینہ طورپر طلبہ کے ساتھ اتوار کو کی گئی مارپیٹ کرنے کے خلاف جامعہ،جواہر لال نہرو اور دہلی یونیورسٹی کے سیکڑوں طلبہ نے نئی دہلی مبینہ طورپر پولس ہیڈکوارٹر کےسامنے مظاہرہ کیاتھا۔پولس ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے میں کئی ٹیچر بھی شامل تھے۔

مشہور سماجی کارکنان ہرش مندر،سینئر وکیل پرشانت بھوشن،پروفیسر اپوروآنند سمیت کئی شہری سماج کے لوگوں نے بھی یہاں آکر طلبہ کے ساتھ اتحاد دکھایا تھا۔ساتھ ہی پولس بربریت کے خلاف شہری سماج کے لوگوں نے بھی یہاں پہنچ کر اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ہرش مندر نے کہاکہ طلبہ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔اپنی تحریک پرامن طریقےسے چلائیں۔سی اے اے کے خلاف لڑائی میں ملک بھر کے شہری سماج کے لوگ آپ کے ساتھ ہیں۔آپ لوگ خود کو اکیلا نہ سمجھیں۔اس کے علاوہ بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد راون نے بھی جامعہ پہنچ کر مظاہرین کو اپنی حمات دی۔

next