آئی ایم اے نے کی کووڈ-19 سے خلاف پنجاب حکومت کی جد و جہد کو سراہا

اسوسی ایشن نے جالندھر کووِڈ اسپتال کے پاس 10 وینٹیلیٹر اور 25 بیڈ والا اسپتال بنایا ہے جسے ضرورت پر ریاستی حکومت کو سونپے جانے کی پیشکسش کی ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

انڈین میڈیکل اسوسی ایشن (آئی ایم اے) نے پنجاب حکومت کے کووِڈ-19 کی فوراً شناخت، ٹیسٹ اور روک تھام کی پالیسی اختیار کرکے اس وبا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

آئی ایم اے نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ پنجاب میں گذشتہ چار مارچ کو کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا، محکمہ صحت نے جنوری میں باگھا بارڈر، کرتارپور گلیارے، بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بین الاقوامی چیک پوسٹوں پر آنے والے مسافروں کا ٹیسٹ شروع کر دیا تھا۔ مسافروں کا ٹیسٹ چنڈی گڑھ میں شروع کر دی گئی تھی اور حکومت ہند سے بھی پہلے، چیک پوسٹ پر اسکریننگ شروع کر دی تھی۔

اسوسی ایشن نے جالندھر کووِڈ اسپتال کے پاس 10 وینٹیلیٹر اور 25 بیڈ والا اسپتال بنایا ہے جسے ضرورت پر ریاستی حکومت کو سونپے جانے کی پیشکسش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم اے کی جانب سے کئی اضلاع میں پی پی ای کٹس دیے جا رہے ہیں اور کووِڈ-19 کے مریضوں کے انتظام کے لیے ٹریننگ دی جا رہی ہے اور سول اسپتالوں میں ٹیسٹ کے لیے ایمبولینس بھی مہیا کروائی جا رہی ہے۔

آئی ایم اے نے کہا کہ ایس بی ایس نگر اور موہالی ضلع کے ڈیرابسی میں ریاست کے دو ہاٹسپاٹ میں ریاستی حکومت کی ٹیموں کی جانب سے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں کی حصار بندی کی گئی اور پوزیٹیو کیسز کے تمام رابطوں کی فوراً ٹریسنگ کرکے ٹیسٹ کیا گیا۔