آئی ایم اے نے وزارت صحت سے ’نیند سے بیدار‘ ہونے کی اپیل کیوں کی؟

آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ مرکز نے لاک ڈاؤن لگانے سے انکار کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہر دن چار لاکھ سے زائد نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں اور میڈیم سے سنگین معاملوں کی تعداد تقریباً 40 فیصد تک بڑھ رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن (آئی ایم اے) نے ہفتہ کے روز مرکزی وزارت صحت پر خطرناک کورونا بحران میں زبردست سستی کا الزام عائد کرتے ہوئے جلد نیند سے بیدار ہونے کی اپیل کی ہے۔ آئی ایم اے نے کہا ہے کہ تباہناک بحران سے نمٹنے کا وقت ہے، لیکن محکمہ کی جانب سے کورونا وبا کی لہر سے لڑنے میں دکھائی جا رہی زبردستی سستی اور نامناسب کارروائیاں حیران کرنے والی ہیں۔ ادارہ نے کہا کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ آئی ایم اے اور دیگر اہل پیشہ ور معاونین کے ذریعہ اجتماعی توجہ کی اپیل، سرگرم اداروں اور گزارشات کو ’کوڑے دان‘ میں ڈال دیا جاتا ہے اور فیصلے ’زمینی حقیقت کو سمجھے بغیر‘ لیے جاتے ہیں۔

آئی ایم اے کے ذریعہ جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’گزشتہ 20 دنوں میں بھلے ہی کچھ ریاستوں کے ذریعہ 10 سے 15 دنوں کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن ایسو سی ایشن اس کی جگہ منصوبہ بند، پہلے سے اعلان کردہ مکمل طور پر قومی لاک ڈاؤن لگانے پر زور دے رہی ہے۔ پہلے سے اعلان کردہ اس لیے کہ طبی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے، سامان اور عوامی قوت جمع کرنے کے لیے تھوڑا وقت مل سکے۔ ہندوستان میں ڈاکٹروں کے قومی ادارہ آئی ایم اے نے کہا کہ ’’لاک ڈاؤن تباہناک کورونا پھیلاؤ کی سیریز کو توڑ دے گا۔‘‘


آئی ایم اے نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ مرکزی حکومت نے لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے، نتیجتاً ہر دن چار لاکھ سے زائد نئے مریض بڑھتے گئے اور میڈیم سے سنگین معاملوں کی تعداد تقریباً 40 فیصد تک بڑھ رہی ہے۔ یہ ذکر کرتے ہوئے کہ چھٹ پٹ رات کے کرفیو نے کوئی اچھا نتیجہ نہیں دیا ہے، آئی ایم اے نے زور دے کر کہا کہ ’’زندگی معیشت کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہے۔‘‘ آئی ایم نے کہا کہ ’’نیند سے بیدار ہو جائیے اور کووڈ وبا میں بڑھتے چیلنجز کو کم کرنے کے لیے حرکت دکھائیے۔‘‘

آئی ایم اے کے ذریعہ 6 اپریل سے سائنسی دلائل کی بنیاد پر 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے منصفانہ، آسان اور سستی ٹیکہ کاری کا مطالبہ کیا گیا تھا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ ملک کو لگاتار یقین دلائے جانے کے بعد ٹیکہ کاری مہم یکم مئی سے شروع کی گئی۔ آئی ایم اے نے کہا کہ ’’یہ افسوسناک ہے کہ وزارت ضروری روڈ میپ بنانے اور ویکسین اسٹاک یقینی کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجہ میں 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لیے ٹیکہ کاری نہیں ہو سکی ہے۔ جب وزیر اعظم کے نوٹیفکیشن کو واضح طور سے نافذ نہیں کیا جاتا ہے تو کسے قصوروار ٹھہرایا جائے؟‘‘


آئی ایم اے نے کووڈ ویکسین کی قیمت متعین کرنے کے نظام کو ’غیر انسانی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 18 سے 45 سال کی عمر کے طبقہ کے لوگوں کو 50 فیصد کے مرکزی حصے سے مفت ٹیکہ کرنے کی مناہی ہے اور انھیں ریاستی حکومتوں کی ہمدردی کے تحت رکھا گیا ہے۔ ادارہ نے کہا کہ ’’قیمت کے تعین اور اسٹاک کے لیے مینوفیکچرر کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے نجی ڈاکٹروں اور ریاستوں کو کہے جانے کی وجہ سے قیمت میں اضافہ اور ویکسین کی کمی ہوئی ہے۔‘‘

آئی ایم اے نے 1997 اور 2014 میں چیچک اور پولیو انسداد کے لیے کی گئی ٹیکہ کاری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اجتماعی مفت ٹیکہ کاری کو اختیار کرنے سے ممکن ہے، داخلی قیمت تعین کرنے کے نظام سے نہیں۔ آئی ایم اے نے کہا کہ جب بجٹ میں 35 ہزار کروڑ روپے الاٹ کیے گئے تو اس سے زیادہ 200 کروڑ ویکسین خریدے جا سکتے ہیں۔ آخر مرکزی حکومت اپنی ذمہ دارے کو کیوں الگ کر رہی ہے؟ آئی ایم اے نے مزید کہا کہ ’’آج گزشتہ سات دنوں سے چھوٹے اور میڈیم سطح کے نجی اسپتالوں میں کوئی ٹیکہ دستیاب نہیں ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔