میری وفاداری ملک کی مٹی کے ساتھ ہے، اور یہ مٹی بی جے پی کی جاگیر نہیں: التجا مفتی

جمو ں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے کہا ہے کہ ان کی وفاداری ملک کی مٹی کے ساتھ ہے اور یہ مٹی بی جے پی کی جاگیر نہیں ہے

تصویر ایشلن میتھیو
تصویر ایشلن میتھیو
user

karthik

جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے وادی کےلوگوں پر وی پی این کے ذریعہ انٹرنیٹ کا استعمال کرنے پر مقدمہ درج کرنے کےلئے مرکز کی مودی حکومت کی سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔ التجا نے کہا کہ یا تو کوئی نریندر مودی کو گمراہ کر رہا ہے یا پھر وہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں۔

دہلی میں انڈین وومنس پریس کارپس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے التجا نے کہا کہ ’’یہ انتہائی بکواس بات ہے کہ وی پی این کا استعمال کرنے پر متعدد لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے اور وہ بھی دفعہ 66 کے تحت جسے سپریم کورٹ سال 2015 میں ہی رد کر چکا ہے۔ یہ قدم بہت برا ہے جو انٹرنیٹ استعمال کرنے جیسے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔‘‘التجا نے حکومت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ وادی میں واپس لوٹ کر وی پی این کے ذریعہ ہی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے ٹویٹ کریں گی اور دیکھتے ہیں حکومت کیا کرتی ہے۔

واضح رہے کہ التجا کی والدہ محبوبہ مفتی چھہ ماہ سے حراست میں ہیں اور مرکزی حکومت نے ان کے خلاف پی ایس اے (پبلک سیفٹ ایکٹ) لگا دیا ہے۔ التجا نے کہا کہ ’’میری ماں پر پی ایس اے لگایا گیا ہے اور ان پر انتہائی خطرناک الزام عائد کئے گئے ہیں۔ میری والدہ کے خلاف جو دستاویزات بنائے گئے ہیں اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ’ڈیڈیز گرل‘ ہیں یعنی اپنے باپ کی بیٹی ہیں۔ یہ جملہ قابل اعتراض ہے اور قابل مذمت ہے۔ میری والدہ کو اس پر فخر ہے کہ وہ اپنے باپ کی بیٹی ہے اور اس پر مجھے بھی فخر ہے کہ میں اپنی ماں کی بیٹی ہوں۔ اگر باپ کی بیٹی ہونا گناہ ہے تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے۔‘‘

التجا نے حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کشمیر کی معیشت کو 18 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے اور کشمیر کے تمام رہنماؤں کو قید میں رکھا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں آج ایک دکھی کشمیری کے طور پر بول رہی ہوں نہ کہ محبوبہ مفتی کی بیٹی کے طور پر۔ کشمیریوں کا ملک کے ساتھ ایک جذباتی رشتہ ہے اور وہاں کے لوگوں پر غیر انسانی طریقہ سے ان کی آزادی پر حملہ ہوا ہے۔‘‘التجا نے کہا کہ ابھی ان کا سیاست میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ میں ایک اچھی سیاست داں بن سکتی ہوں لیکن میرے دل میں جو ہوتا ہے وہ بولتی ہوں۔‘‘