15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کی کامیابی پر آئی آئی ایم اندور کرے گا مطالعہ
آئی آئی ایم اندور کے ڈائریکٹر ہمانشو رائے نے کہا کہ ویبھو سوریاونشی کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر معمولی صلاحیت کو اگر درست ماحول، رہنمائی اور مواقع ملیں تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتی ہے۔

محض 15 سال کی عمر میں ویبھو سوریہ ونشی نے اپنی طوفانی بلے بازی سے ہر طرف سنسنی پھیلا رکھی ہے۔ آئی پی ایل میں کم عمری میں اپنی غیر معمولی صلاحیت اور شاندار کارکردگی کے ذریعے قومی و بین الاقوامی سطح پر شناخت بنانے والے ویبھو اب ایک خاص تعلیمی مطالعے کا موضوع بنیں گے۔ دراصل آئی آئی ایم اندور 15 سال کی عمر میں ملنے والی ان کی اس کامیابی، اس کے پیچھے کے اسباب اور اس کے اثرات پر ایک جامع تحقیق کرے گا۔
آئی آئی ایم اندور کے ڈائریکٹر ہمانشو رائے نے کہا کہ ویبھو سوریاونشی کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر معمولی صلاحیت کو اگر درست ماحول، رہنمائی اور مواقع ملیں تو وہ غیر معمولی نتائج دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی بڑی کامیابی کے پیچھے صرف فرد کی کوشش نہیں ہوتی، بلکہ خاندان، تربیت دینے والوں، سماجی تعاون اور ادارہ جاتی تعاون کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔
حالانکہ ہمانشو رائے نے تسلیم کیا کہ کم عمری میں ملنے والی شہرت اور کامیابی اپنے ساتھ کئی طرح کے چیلنجز بھی لے کر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچانک مسلسل مواقع ملنے، امیدوں کے دباؤ اور سوشل میڈیا کی نگرانی سے نوجوان ٹیلنٹ متاثر ہو سکتا ہے۔ آئی آئی ایم اندور کے ڈائریکٹر کے مطابق عالمی سطح پر ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں ضرورت سے زیادہ توقعات اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے باصلاحیت کھلاڑی ذہنی تھکن اور جذباتی چیلنجز کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ہمانشو رائے نے بتایا کہ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی آئی ایم اندور اس موضوع پر ایک جامع مطالعہ کرنے جا رہا ہے۔ اس تحقیق میں ان سماجی، نفسیاتی، خاندانی اور ادارہ جاتی عوامل کا تجزیہ کیا جائے گا، جو کم عمری میں شاندار کارکردگی دکھانے والے باصلاحیت افراد کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قیادت، ’بیہیویئرل سائنس‘ اور انسانی صلاحیتوں کے ماہرین مل کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ابتدائی کامیابی نوجوان ٹیلنٹ کے اعتماد، ذاتی ترقی اور مستقبل کی سمت کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
آئی آئی ایم اندور کے ڈائریکٹر کے مطابق اس مطالعے کا مقصد محض ایک باصلاحیت کھلاڑی کی کامیابی کا تجزیہ کرنا نہیں ہے، بلکہ ایسے نتائج حاصل کرنے ہیں جو مستقبل میں سامنے آنے والے نوجوان ٹیلنٹ کے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ کھیل کی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت، جذباتی توازن اور ہمہ جہت ترقی کو بھی یکساں اہمیت ملے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
