اگر چوہوں سے بچ جائے اناج تو بھر جائے آدھی آبادی کا پیٹ!

قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چوہے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو پانچ سے 15 فیصد تک نقصان پہنچاتے ہیں۔ چوہوں سے غذائی اجناس کے متوقع نقصان سالانہ 24 لاکھ ٹن سے 26 لاکھ ٹن ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: چھوٹے چھوٹے شرارتی چوہے نہ صرف طرح طرح کی بیماریاں پھیلا کر لوگوں کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ وہ سالانہ اتنے اناج کا نقصان کرتے ہیں جس سے دنیا کی آدھی آبادی کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔

قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں چوہے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو پانچ سے 15 فیصد تک نقصان پہنچاتے ہیں۔ چوہوں سے غذائی اجناس کے متوقع نقصان سالانہ 24 لاکھ ٹن سے 26 لاکھ ٹن ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، ملک میں تقریباً 240 کروڑ چوہے ہیں اور چھ چوہے یومیہ ایک آدمی کا کھانا کھا جاتے ہیں۔ پانسے کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اسٹوریج میں تقریبا 2.5 فیصد نقصان چوہوں کی وجہ سے ہے. چوہے روزانہ اپنے جسم کے وزن کے تقریبا آٹھ سے پندرہ فیصد اناج کھا جاتے ہیں۔


چوہوں سے زراعت کو ہونے والے نقصان کی روک تھام کے لئے ’سینٹرل ایرڈ زون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘، جودھپور کے تحت ’آل انڈیا روڈنٹ کنٹرول ریسرچ‘ کے مشترکہ منصوبے چلائے جا رہے ہیں جس میں چوہوں سے نمٹنے کے لئے سائنسداں کسانوں کو تربیت دے رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں چوہوں کی خاص طور سے تین اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں- گھروں میں رہنے والے، کھیتوں میں رہنے والے اور گھروں اور کھیتوں میں رہنے والے شامل ہیں۔ یہ بہت ہوشیار اور شکی مزاج کے مخلوق ہیں۔ چوہے عام طور پر رات کے وقت کھانا کھاتے ہیں۔ ان کے خاندان/کنبہ میں کسی رکن کی موت ہوتی ہے تو وہ فکر مند ہو جاتے ہیں۔ چوہے اپنا فضلہ - پیشاب بھی کھاتے / پیتے ہیں۔ وہ 15 سے 25 ملی لیٹر پیشاب کرتے ہیں۔


چوہیا پانچ ہفتے سے دو ماہ کے دوران حاملہ کے قابل ہو جاتی ہیں، چوهيا ایک بار میں دو سے دس بارہ بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔ سال 2003 میں آسٹریلیا میں چوہوں پر منعقد ایک کانفرنس میں ماہرین کا خیال تھا کہ چوہے 70 قسم کی بیماری پھیلا سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔