دفعہ 370 کی بحالی کے لیے قربانی بھی دینی پڑے تو گریز نہیں کیا جائے گا: فاروق عبدﷲ

فاروق عبدﷲ نے کہا کہ ’نیشنل کانفرنس کے سبھی کارکنان اور لیڈران کو اب تیار رہنا چاہئے کیونکہ جو حقوق ہم سے چھینے گئے اُن کی بحالی کی خاطر ہمیں اگر قربانیاں بھی دینے پڑیں تو کوئی گریز نہیں کیا جائے گا‘۔

فاروق عبدﷲ، تصویر یو این آئی
فاروق عبدﷲ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبدﷲ کا کہنا ہے کہ جس طرح سے ملک کے کسانوں نے اپنے حقوق کی بحالی کے لیے قربانیاں پیش کیں، 370 کی بحالی کی خاطر ہمیں بھی ایسی قربانیاں دینے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدر پورہ مبینہ تصادم میں مارے گئے رام بن کے نوجوان کی لاش ابھی تک وارثین کے حوالے نہیں کی گئی ہے۔ ان باتوں کا اظہار موصوف نے درگاہ حضرت بل میں مرحوم شیخ محمد عبد ﷲ کی برسی کے موقع پر پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران کیا۔

فاروق عبدﷲ نے کہا کہ ’نیشنل کانفرنس کے سبھی کارکنان اور لیڈران کو اب تیار رہنا چاہئے کیونکہ جو حقوق ہم سے چھینے گئے اُن کی بحالی کی خاطر ہمیں اگر قربانیاں بھی دینے پڑیں تو کوئی گریز نہیں کیا جائے گا‘۔ ڈاکٹرفاروق عبدﷲ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے متنازعہ زرعی قوانین لاگو کرنے کے بعد ملک کے کسانوں نے مسلسل ایک سال تک دھرنا دیا جس دوران سات سو کے قریب کسانوں نے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔


فاروق عبدﷲ نے بتایا کہ ’ہمیں بھی ایسی ہی قربانیوں کے لئے تیار رہنا ہوگا تاکہ جو حقوق مرکز نے ہم سے غیر قانونی طریقے سے چھین لئے ہیں اُن کی واپسی ہو سکے‘۔ فاروق عبدﷲ کا مزید کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت لوگوں کو گونا گوں مصائب ومشکلا ت کا سامنا ہے اور جو کچھ بھی کہا جارہا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔

وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے دفعہ 370 کے متعلق دیئے گئے بیان پر فاروق عبدﷲ نے کہا کہ ’وادی کشمیر میں سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ حیدر پورہ مبینہ تصادم میں مارے گئے تیسرے نوجوان کی لاش فوری طورپر لواحقین کے سپرد کی جائے۔ فاروق عبدﷲ کا کہنا تھا کہ دو افراد کی لاشیں لواحقین کے حوالے کی گئیں لیکن رام بن کے عامر ماگرے کی لاش ابھی تک وارثین کے سپرد نہیں کی گئی ہے۔


انہوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ مہلوک نوجوان کی لاش کو فوری طورپر اُس کے وارثین کے حوالے کی جائے تاکہ وہ اُس کے آخری رسومات ادا کر سکیں۔ نیشنل کانفرنس کے سرپرست نے پارٹی ورکروں اور لیڈران پر زور دیا کہ وہ عوام الناس سے قریبی تعلقات بنائے رکھنے کی خاطر ہر علاقے اور گاوں کا دورہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایک جماعت ہی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے لہذا پارٹی کے منشور کو عوام تک پہنچانے کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔