ایک بار مسجد تو ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے: دفاعی وکیل

سپریم کورٹ اور مولانا ارشد مدنی

جمعیۃعلماء ہند انصاف کی سربلندی کے لئے قانونی جنگ لڑرہی ہے: مولانا ارشدمدنی

گذشتہ کئی ماہ سے مسلسل جاری بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت کل پھر چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ کے سامنے شروع ہوئی جس کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئروکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے بحث کاآغاز کیا اور عدالت کو بتایا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مسجد اللہ کا گھر ہے اور نماز کی ادائیگی بنیادی ارکان میں شامل ہے۔

انہوں نے عدالت کے سامنے مسجد کی اسلام میں حیثیت پر درجنوں احادیث اور قرآنی حوالوں کو پیش کرتے ہوئے اپنے دلائل پیش کئے اور کہا کہ ایک بار مسجد تعمیر ہوجانے کے بعد وہ تا حیات مسجد رہتی ہے ، اسے منہدم کرنے کے بعدبھی اس کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ۔

اپنی بحث کو جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت سے کہا کہ رام جنم بھومی کی نمائندگی کرنے والے لوگ لگاتار اخبارات میں یہ بیان دے رہے ہیں کہ رام مندر وہیں بنے گا یعنی انہیں عدالت کے فیصلہ سے کوئی سرو کار نہیں ڈاکٹر راجیودھون نے عدالت کو مطلع کیا کہ ہم نے اس کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن ہمارا مکمل اعتماد عدلیہ پر ہے اس کی وجہ سے ہم نے ابھی تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایاانہوں نے یہ بھی کہاکہ عدالت کو ان سب باتوں کا سخت نوٹس لینا چاہئے ۔

ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت سے بتایا کہ اس معاملے کے ہندو فریقین نے پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے کہ عدالت کے فیصلہ کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑیگا اور ان پر کوئی کارروائی بھی نہیں کرے گا اسی لئے ان کے حوصلے بلند ہیں جو عدالتی کام کاج میں رخنہ اندازی کے مترادف ہے۔

ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ ایک طرف ڈاکٹر اسماعیل فاروقی کےفیصلہ میں کہا گیا ہےکہ نماز کہیں بھی پڑھی جاسکتی ہے اور مسجد اسلام کے جزلازم میں نہیں ہے لیکن دوسری جانب حال ہی میں ہریانہ کے وزیرا علی منوہر لال کھٹرنے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نماز کہیں بھی ادا نہیں کی جاسکتی اسے صرف مسجدمیں ادا کرنا چاہئے جس پر چیف جسٹس سمیت عدالت میں موجودتمام لوگ مسکرادیئے ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے دوران بحث عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر اسماعیل فاروقی کے فیصلہ میں کی گئی غلطیوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر اسے درست کرنے کاوقت آگیا ہے لہذا اس معاملہ کی حساس نوعیت کے مد نظر اسے کثیر رکنی بینچ کے سپرد کردینا چاہئے۔

آج کی پیش رفت پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ آج ہمارے وکلاء نے عدالت میں بہت اچھی بحث کی اور مسجد کی شرعی حیثیت پر قرآن واحادیث کے دلائل بھی پیش کئے انہوں نے کہا کہ شریعت کے نزدیک جو جگہ مسجد کے لئے وقف ہوجائے وہ ہمیشہ کے لئے مسجد ہی رہتی ہے خواہ وہاں کوئی ڈھانچہ موجودہویا نہ ہو، مسجد کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے تعلق سے یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ اگر چہ 6 ؍دسمبر 1992کو وہاں مسجد کی عمارت کو جبراً شہید کیا جاچکا ہے لیکن جو زمین ہے وہ مسجد کے ہی صیغہ میں آتی ہے چنانچہ وہاں اب کوئی دوسری تعمیر نہیں ہوسکتی مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملہ میں کچھ لوگ جس طرح غیر ضروری بیان بازی کرکے مسجد کی جگہ پر مندربنانے کی درپردہ دھمکی دے رہے ہیں وہ بہت افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب حتمی فیصلہ کے لئے معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو اس طرح کے بیانات اور دھمکیوں کا کیا مطلب نکالاجائے ؟ اور کیا یہ توہین عدالت کا معاملہ نہیں ہے ؟مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلاء نے بروقت فاضل عدالت کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی کوشش کی ہے اس لئے معززعدالت کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ہمیشہ عدلیہ پر اعتمادکا اظہارکیا ہے ، دہشت گردی کے بعض معاملوں میں عدلیہ کے جس طرح اہم فیصلے آئے ہیں اس سے عدلیہ پر ہمارا اعتماداور یقین مزید مضبوط ہوا ہے چنانچہ ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ بابری مسجد ملکیت کے مقدمہ میں بھی فاضل عدالت تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کہ حق میں فیصلہ دےگی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کسی کے خلاف نہیں بلکہ انصاف کی سربلندی کے لئے قانونی جنگ لڑرہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ تین ماہ سے چیف جسٹس دیپک مشراء کی سربراہی والی تین رکنی بینچ میں جسٹس عبدالنظیراور جسٹس بھوشن کے روبرو جاری جمعیۃ علماء کے وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ان کی معاونت کرنے والے سینئر وکیل راجو رام چندرن کی بحث کا آج اختتام عمل میں آیا جس کے بعد عدالت نے دیگر فریقین کو اپنے دلائل عدالت میں پیش کرنے کے لیے حکم دیتے ہوئے معاملے کی سماعت ۱۷؍ مئی دو پہر دو بجے تک ملتوی کردی۔

بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لےکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 پر بحث میں سینئر وکلاء کی معاونت کے لیے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ جارج، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے ، ایڈوکیٹ قراۃ العین، ایڈوکیٹ مجاہد احمد و دیگر موجود تھے ۔

سب سے زیادہ مقبول