کانگریس کا ’نیائے منصوبہ‘ نافذ ہوتا تو کساد بازاری نہیں آتی: راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا کہ کسان، غریب اور مزدور کی جیب میں پیسہ ڈالنے کے لئے ان کی پارٹی ’نیائے ہوجنا‘لے کر آئی تھی لیکن مرکز میں ان کی حکومت نہیں بنی لہذا ملک اقتصادی کساد بازاری کے دلدل میں چلا گیا ہے

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

یو این آئی

مہندرگڈھ: کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کسان، غریب اور مزدور کی جیب میں پیسہ ڈالنے کے لئے لوک سبھا انتخابات میں پہلے ان کی پارٹی ’نیائے ہوجنا‘لے کر آئی تھی لیکن مرکز میں ان کی حکومت نہیں بنی لہذا ملک اقتصادی کساد بازاری کے دلدل میں چلا گیا ہے۔

راہل گاندھی نے ہریانہ کے مہندرگڈھ میں جمعہ کو کانگریس کی انتخابی اجلاس میں پریورتن (تبدیلی) ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے لوک سبھا انتخابات سے پہلے کانگریس نے ’ نیائے یوجنا‘ لانے کا ملک کے عوام سے وعدہ کیا تھا، کیونکہ پارٹی جانتی ہے کہ معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے غریب، کسان اور مزدور کی جیب میں پیسہ پہنچانا ضروری ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں اگر کانگریس کی جیت ہوتی تو اس منصوبہ کو لاگو کرکے غریب، کسان، مزدور وغیرہ کے بینک اکاؤنٹ میں براہ راست اس منصوبہ کا پیسہ جاتا اور ہندوستان کے لوگوں کو جو تکلیف ہو رہی ہے وہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا، ’’2004 سے 2014 تک ملک میں کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت تھی اور پھر ہماری معیشت لہذا تیزی سے آگے بڑھی کہ اس دوران مہاتما گاندھی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم (منریگا) لاگو کی گئی اور کسان کا قرض معاف کیا گیا۔

کانگریس کا ’نیائے منصوبہ‘ نافذ ہوتا تو کساد بازاری نہیں آتی: راہل گاندھی

کانگریس کے لیڈر نے کہا کہ منریگا سے براہ راست 35 ہزار کروڑ روپے غریبوں کی جیب میں پہنچا اور کسانوں کی جیب میں 70 ہزار کروڑ روپئے دیے گئے۔ اس سے ان کی خریداری صلاحیت بڑھی لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد مسٹر نریندر مودی نے پانچ سال میں کسانوں، مزدوروں اور غریبوں کی جیب کا یہ پیسہ نوٹ بندي لاگو کرکے واپس لے لیا اور ارب پتیوں کو دے دیا۔

Published: 18 Oct 2019, 9:00 PM