’گوڈسے نے گاندھی کو نہیں مارا ہوتا تو میں مار دیتی‘

اتر پردیش میں تشکیل پہلی ’ہندو عدالت‘ کی نامزد جج ڈاکٹر پوجا شکون پانڈے کا کہنا ہے کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میری تنظیم اکھل بھارت ہندو مہاسبھا ناتھو رام گوڈسے کی پوجا کرتی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے میرٹھ میں گزشتہ دنوں پہلی نام نہاد ’ہندو عدالت‘ تشکیل پائی۔ اس درمیان خبر گرم رہی کہ شریعہ عدالت کی طرز پر ہندو مہا سبھا نے ’ہندو عدالت‘ قائم کرنے کا فیصلہ لیا۔ اس نام نہاد ہندو عدالت کی جج ڈاکٹر پوجا شکون پانڈے کو بنایا گیا، اور اب انھوں نے انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ ایک ہندی ویب سائٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ’’ہاں مجھے فخر ہے کہ ہم ناتھو رام گوڈسے کو پوجتے ہیں۔ وہ گاندھی کے قاتل نہیں تھے۔ انھیں ہندوستانی آئین نافذ ہونے سے پہلے سزا دے دی گئی تھی۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں فخر سے کہتی ہوں کہ اگر ناتھو رام گوڈسے نے گاندھی کو نہیں مارا ہوتا تو میں مارتی۔ یہ بھی سن لیجیے، اگر آج بھی کوئی گاندھی پیدا ہوگا جو ملک تقسیم کرنے کی بات کرے گا تو ناتھو رام گوڈسے بھی اسی پاک زمین پر پیدا ہوگا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ اکھل بھارت ہندو مہا سبھا نے پہلی ’ہندو عدالت‘ قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ شریعہ عدالتوں کی طرز پر پورے ملک میں ہندو عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ ہندو مہا سبھا نے علی گڑھ کی ڈاکٹر پوجا شکون پانڈے کو اس عدالت کا پہلا جج بھی نامزد کیا۔ تنظیم کے قومی نائب صدر اشوک ورما کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ہندو عدالتوں میں زمین تنازعہ، مکان اور شادی کے معاملے آپسی اتفاق سے سلجھائے جائیں گے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ 2 اکتوبر کو ان ضابطوں کے بارے میں تفصیل پیش کی جائے گی جن کے مطابق ہندو عدالتیں کام کریں گی۔

ہندو عدالت تشکیل دیے جانے کے معاملے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا ہے اور پوری تفصیل طلب کی ہے۔ عدالت نے میرٹھ کے ضلع مجسٹریٹ اور ہندو عدالت کی مبینہ جج پوجا شکون پانڈے کو فریق بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ معاملے کی سماعت آئندہ 11 ستمبر کو ہوگی۔ نوٹس جاری ہونے کے بعد ہندو مہاسبھا کے قومی سربراہ چندر پرکاش کوشک خوش نظر آ رہے ہیں اور انھوں نے پرائیویٹ نیوز چینل ’آج تک‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اچھا ہے۔ اب اس معاملے کو عدالت کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ اگر اس ملک میں مسلمانوں کے لیے شریعہ عدالتیں ہو سکتی ہیں تو ہندو عدالتوں کے ہونے میں کیا پریشانی ہے۔‘‘