اگر میں مر گیا تو بی جے پی سے میری لاش لڑے گی: چندرشیکھر

چندر شیکھر نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت بہوجن اور آئین مخالف ہے، ہم اس حکومت کو بدلنے جا رہے ہیں، اگر میں جنتر منتر پر نہیں پہنچ پایا تو میری لاش جائے گی اور بی جے پی حکومت سے لڑے گی۔‘‘

تصویر قومی آواز/آس محمد
تصویر قومی آواز/آس محمد

آس محمد کیف

خاتون کمیشن کی رکن رہ چکی اور سماجوادی پارٹی سے اسمبلی انتخاب میں قسمت آزمائی کر چکی ایک خاتون لیڈر چندرشیکھر سے ملاقات کرنے بوقت دوپہر اسپتال پہنچتی ہے۔ چندرشیکھر تھکے ہوئے نظر آتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں بھی سوجن ہے۔ ان کے ارد گرد سیاہ کپڑے پہنے کھڑے مضبوط قد کے نوجوان کو دیکھ کر وہ کہتی ہے ’’ارے یہاں تو میری ٹیم کے لوگ ہیں... یہ میرا پی ایس او تھا اور آپ کا پی اے تو میرا پی اے تھا۔‘‘ چندرشیکھر یہ بات سن کر اپنے دونوں ہونٹوں کو آپس میں زور سے ملاتے ہیں اور پیچھے کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں ’’یہ پی ایس او نہیں میرا بھائی ہے، اور وہ پی اے نہیں میری بہن کا بیٹا ہے۔‘‘ چندرشیکھر کی بات سن کر پیچھے کھڑے نوجوان کا سینہ چوڑا ہو جاتا ہے اور سامنے والے شخص کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

کل رات ڈیڑھ بجے بمشکل کارکنان کی گزارش پر سونے والے چندرشیکھر آج صبح 6 بجے سے ہی کارکنان سے گھرے ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین بھی شامل ہیں، بزرگ بھی ہیں اور بڑی تعداد میں نوجوان بھی ہیں۔ گوجر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک 86 سالہ بزرگ جے کرن سنگھ اچانک چندرشیکھر کے پاس پہنچتے ہیں اور سر پر ہاتھ رکھ کر اپنائیت کے ساتھ کہتے ہیں ’’بیٹا تجھ میں بہت ہمت ہے۔‘‘

جمعرات کی صبح آٹھ بجے سے میڈیا کے لوگ بھی چندرشیکھر سے ملاقات کے لیے اسپتال پہنچ رہے ہیں۔ وہ ان سے ان کے آگے کے منصوبہ کو لے کر ’کچھ نہ کچھ‘ جاننے کی کوشش میں لگے ہیں۔ لیکن چندرشیکھر بھی انتہائی پختگی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے صرف ایک ہی بات کہتے ہیں، اور وہ یہ کہ ’’جو آئین کے محافظ ہیں، ہم اسی کے ساتھ ہیں۔‘‘

چندرشیکھر اس وقت میرٹھ کے آنند اسپتال کے کمرہ نمبر 213 میں ہیں اور ان کے بستر کے سامنے ٹی وی چل رہی ہے۔ اس پر خبر آ رہی ہے ’’چندرشیکھر نے بگاڑا گٹھ بندھن کا ذائقہ‘‘۔ اس خبر کی طرف بھیم آرمی سے تعلق رکھنے والے منو کی نگاہ جاتی ہے اور کہتے ہیں ’’بھائی دیکھیے، ٹی وی پر کیا چل رہا ہے!‘‘ لیکن چندرشیکھر کی دلچسپی ٹی وی پر چل رہی کسی دوسری خبر پرہے۔ یہ خبر برہمپوری علاقہ واقع ایک فیکٹری میں لگی آگ پر مبنی ہے۔ چندرشیکھر اپنے ساتھی پروین گوتم سے کہتے ہیں ’’بھائی پتہ کرو، یہ میرٹھ میں بار بار آگ کیوں لگ رہی ہے۔‘‘

اسی درمیان پولس کی وردی پہنے ایک نوجوان بھی چندرشیکھر سے ملاقات کے لیے پہنچتا ہے۔ وہ مخلصانہ انداز میں کہتا ہے ’’چندرشیکھر بھائی اس دل میں آپ کے لیے بہت عزت ہے۔‘‘ اس طرح کے جملے کئی لوگ بول رہے ہیں جس سے صاف ہے کہ چندرشیکھر کو لوگ کس قدر عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ریلیوں میں لوگ صرف بھیڑ دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ان کا ہاتھ مضبوط کرنے کے ارادے سے پہنچتے ہیں۔’بہوجن ہُنکار ریلی‘ میں بھی کافی لوگوں کا تعاون ان کو حاصل ہے جس کا اختتام چندرشیکھر 15 مارچ کو جنتر منتر پر کریں گے۔ اسی کی تیاریاں چل رہی تھیں جب میرٹھ میں اچانک طبیعت خراب ہونے کے سبب چندرشیکھر کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ اس تعلق سے ڈاکٹر آدتیہ کا کہنا ہے کہ ’’چندرشیکھر کا خون بہت گاڑھا ہے اور انھیں ہر مہینے خون عطیہ کرنے کی صلاح دی گئی ہے۔ وقت پر خون عطیہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر بہت بڑھ جاتا ہے۔‘‘

جب چندرشیکھر اسپتال میں داخل ہوئے تو بدھ کے روز ان سے ملاقات کرنے کانگریس کی نومنتخب قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اچانک پہنچ گئی تھیں۔ آج پورے دن پرینکا-چندرشیکھر کی ہوئی ملاقات پر گہما گہمی دیکھنے کو ملی۔ اس سلسلے میں چندر شیکھر سے رد عمل ظاہر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’’میں پرینکا گاندھی کا احسان مند ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی وہ جاری اپنی جدوجہد کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’بی جے پی کی حکومت بہوجن اور آئین مخالف ہے، ہم اس حکومت کو بدلنے جا رہے ہیں۔‘‘ وہ اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہنے سے پیچھے نہیں ہٹتے کہ ’’اگر میں جنتر منتر پر نہیں پہنچ پایا تو میری لاش جائے گی اور بی جے پی حکومت سے لڑے گی۔‘‘

’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے چندر شیکھر آزاد مودی حکومت کی پالیسیوں سے بہت ناراض نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں مودی کو ہرانا چاہتا ہوں کیونکہ یہ ملک ہی نہیں بیرون ممالک تک ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے صرف ملک میں نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے۔‘‘ چندرشیکھر مزید کہتے ہیں کہ ’’بھیم آرمی ایک مشن ہے اور ہم سماج کو بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم طاقت کے زور پر لوگوں کو کچلنا نہیں چاہتے بلکہ مظلوموں کی عزت کے لیے لڑنا چاہتے ہیں۔‘‘ طبیعت ناساز ہونے کے باوجود چندرشیکھر پوری طرح پرعزم اور حوصلہ سے بھرے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ بھیم آرمی کے عہدیداران لگاتار چندرشیکھر کو آرام کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں اور سب کچھ خود سنبھالنے کی بات بھی کہہ رہے ہیں، لیکن چندرشیکھر کہتے ہیں ’’یہ ہُنکار ریلی بہت سارے لوگوں کوبیدار کرنے کا کام کرے گی اور دہلی میں نیلا سیلاب آئے گا۔‘‘

کئی لوگ ایسے ہیں جو چندرشیکھر کے عزائم اور ان کی کوششوں پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، لیکن چندرشیکھر واضح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ’’میں بالکل بھی لالچی نہیں ہوں۔ کسی بھی طرح کی پیشکش کو میں تھوکتا ہوں۔ میں صرف سماج کے لیے آواز اٹھا رہا ہوں۔ جو لوگ دبے، کچلے دلتوں اور اقلیتوں پر ظلم کرتے ہیں ان کو ان کی ہی زبان میں جواب دینا چاہتا ہوں اور آئین کے تئیں عقیدت رکھتا ہوں۔‘‘ چندرشیکھر کے بھروسے مند ساتھی کنور دیویندر سنگھ ’قومی آواز‘ کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’بھیم آرمی بہوجنوں کی بات کرتی ہے اور بہوجن کے مفاد کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ چندرشیکھر نے کافی گہرائی سے بہوجنوں کی حالت زار کو سمجھا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان کا مستقبل سے متعلق منصوبہ بالکل واضح ہے۔‘‘

بہر حال، کئی پارٹیوں کے لوگ بھیم آرمی میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔ میرٹھ کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ نے تو بھیم آرمی کا جلسہ پوری ریاست میں کرانے کی بات کہی ہے۔ اس کے لیے بھیم آرمی کی او بی سی اور مائناریٹی شاخ کی تشکیل بھی ہو رہی ہے۔