’اگنی ویر پنشن کے حقدار نہیں تو میں اپنی پنشن چھوڑنے کو تیار‘، بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی کی دو ٹوک

ورون گاندھی نے کہا کہ قلیل مدتی سروس کرنے والے اگنی ویر پنشن کے حقدار نہیں ہیں تو عوامی نمائندوں کو یہ سہولت کیوں؟ ملک کی حفاظت کرنے والوں کو پنشن کا حق نہیں تو میں اپنی پنشن چھوڑنے کو تیار ہوں۔

ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
ورون گاندھی، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مودی حکومت کے ذریعہ حال ہی میں فوج میں بھرتی کے لیے لائی گئی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ملک بھر میں نوجوان سڑکوں پر نکل کر اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران اور کئی ماہرین دفاع بھی اگنی پتھ اسکیم میں موجود خامیوں کی طرف نشاندہی کر چکے ہیں اور اس منصوبہ کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے اگنی پتھ اسکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کو پنشن نہ دیے جانے پر سوال کھڑا کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ملک کی خدمت کرنے والے فوجیوں کو پنشن نہیں ملتا تو ہم اراکین پارلیمنٹ کو بھی چاہیے کہ اپنا پنشن چھوڑ دیں۔

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے اس تعلق سے اپنی ہی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ٹوئٹ کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’اگر اگنی ویر پنشن کے حقدار نہیں، تو میں بھی اپنی پنشن چھوڑنے کو تیار ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں ’’قلیل مدتی خدمت کرنے والے اگنی ویر پنشن کے حقدار نہیں ہیں، تو عوامی نمائندوں کو یہ ’سہولت‘ کیوں؟ ملک کی حفاظت کرنے والوں کو پنشن کا حق نہیں ہے، تو میں بھی خود کی پنشن چھوڑنے کو تیار ہوں۔ کیا ہم اراکین اسمبلی/اراکین پارلیمنٹ اپنی پنشن چھوڑ کر یہ یقینی نہیں کر سکتے کہ اگنی ویروں کو پنشن ملے؟‘‘


واضح رہے کہ اگنی پتھ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو فوج میں چار سال کی ملازمت دی جائے گی، اور اس کے بعد ان میں سے 25 فیصد کو ہی آگے موقع دیا جائے گا۔ یعنی بقیہ 75 فیصد کی ملازمت فوج سے ختم ہو جائے گی اور وہ بے روزگار ہو جائیں گے۔ چار سال کی مدت مکمل کرنے کے بعد فوج سے نکلنے والے نوجوانوں کو فوجیوں جیسی سہولیات بھی نہیں ملیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ فوج میں داخل ہونے کی امید لگائے نوجوانوں میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔