’بغیر اجازت نہیں چھوڑوں گا ملک‘، 40 ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ معاملے میں انل امبانی نے سپریم کورٹ میں دیا حلف نامہ

انل امبانی نے عدالت سے کہا کہ وہ 25 جولائی کے بعد سے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں اور نہ ہی فی الحال باہر جانے کا کوئی منصوبہ ہے۔ اگر بیرون ملک جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ پہلے عدالت سے اجازت لیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>انیل امبانی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بزنس مین انل امبانی نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا ہے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑیں گے۔ 4 فروری کو ان کے وکیل نے عدالت سے زبانی طور پر یہ بات کہی تھی، اب باقاعدہ تحریری حلف نامہ داخل کر دیا گیا ہے۔ معاملہ ریلائنس اے ڈی اے جی گروپ پر عائد تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے بینک قرض گھوٹالے کے الزامات سے متعلق ہے۔ گزشتہ سماعت میں عدالت نے سی بی آئی اور ای ڈی کی تحیقات میں ہو رہی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے یقین دلایا تھا کہ دونوں ایجنسیاں ضروری قدم اٹھائیں گی۔

انل امبانی نے عدالت سے کہا کہ وہ 25 جولائی کے بعد سے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں اور نہ ہی فی الحال باہر جانے کا کوئی منصوبہ ہے۔ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا کہ اگر بیرون ملک جانے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ پہلے عدالت سے اجازت لیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اس سلسلے کو برقرار رکھیں گے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سمن جاری کرتے ہوئے انل امبانی کو 26 فروری کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔


سابق آئی اے ایس افسر ای اے ایس سرما نے عرضی داخل کر کے عدالت کی نگرانی میں معاملے کی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی گزار نے اسے ہزاروں کروڑ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کا معاملہ قرار دیا ہے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہیرا پھیری 2007 سے جاری ہے لیکن اس پر اب جا کر ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ اب بھی تحقیقات صحیح طریقے سے نہیں چل رہی ہے۔

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ 2013 سے 2017 کے درمیان اے ڈی اے جی کی ذیلی کمپنیوں ریلائنس انفراٹیل اور ریلائنس ٹیلی کام نے اسٹیٹ بینک کی قیادت والے  بینکوں کے گروپ سے 31580 کروڑ روپے کا قرض لیا، لیکن اس رقم کا غلط استعمال ہوا۔ ہزاروں کروڑ روپے کا غبن کر لیا گیا۔