مجھے بڈگام میں بر سر احتجاج پنڈتوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی: محبوبہ مفتی کا دعویٰ

پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ انہیں بڈگام میں بر سر احتجاج پنڈت برادری کے لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے سے باز رکھنے کے لئے خانہ نظر بند رکھا گیا

 محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پر موجود پولیس اہلکار / یو این آئی
محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پر موجود پولیس اہلکار / یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دعویٰ ہے کہ انہیں بڈگام میں بر سر احتجاج پنڈت برادری کے لوگوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے سے باز رکھنے کے لئے خانہ نظر بند رکھا گیا۔ ان کا الزام تھا کہ کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کا ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنا ان (سرکار) کے فرقہ وارانہ بیانیے کو راس نہیں آتا ہے۔

بتادیں کہ وسطی ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں کے ہاتھوں راہل بٹ نامی پنڈت سرکاری ملازم کی ہلاکت کے بعد شیخ پورہ کالونی میں رہائش پذیر پنڈت برادری کے لوگ بر سر احتجاج ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ محبوبہ مفتی نے جمعے کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ انہیں بر سر احتجاج پنڈتوں کو ملنے سے باز رکھنے کے لئے خانہ نظر بند رکھا گیا۔


انہوں نے ٹویٹ میں کہا: ’میں بڈگام جانا چاہتی تھی تاکہ مرکزی حکومت کے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہونے کے خلاف بر سر احتجاج پنڈتوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کر سکوں‘۔ ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: ’مجھے خانہ نظر بند رکھا گیا در حقیقت کشمیری مسلمانوں اور پنڈتوں کا ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنا ان کے فرقہ وارانہ بیانیے کے لئے درست نہیں ہے‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔