ملک کے عوام بالخصوص غریبوں سے معافی مانگتا ہوں، سخت اقدامات ضروری تھے: مودی

وزیر اعظم نے کہا، سب سے پہلے میں ملک کے تمام باشندگان سے معافی مانگتا ہوں، میرا دل کہتا ہے کہ آپ مجھے ضرور معاف کر دیں گے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں تمام لوگوں کو درپیش پریشانیوں پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے ’من کی بات‘ میں غریبوں کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں لاک ڈاؤن جیسے سخت اقدامات کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ وزیر اعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ہزاروں غریب مزدور دہلی سے یوپی اور بہار ہجرت کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے اتوار کے روز اپنے ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے دوران ایسے لوگوں کی بات چیت بھی سنائی جو کورونا کے خلاف جنگ میں جیت حاصل کر چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیرون ملک سے آئے تھے، انہیں حکومتی نگرانی میں انہیں قرنطینہ کیا گیا اور صحتیاب ہو گئے۔ وزیر اعظم مودی نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے تجربے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کریں۔

وزیر اعظم نے کہا، سب سے پہلے میں ملک کے تمام باشندگان سے معافی مانگتا ہوں۔ میرا دل کہتا ہے کہ آپ مجھے ضرور معاف کر دیں گے۔ مجھے کئی ایسے فیصلے لینے پڑے جن کی وجہ سے آپ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر میں اپنے غریب بھائی بہنوں کی طرف دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا کہ انہیں لگتا ہوگا کہ کیسا وزیر اعظم ہے! ہمیں مصیبت میں ڈال دیا، ان سے میں خاص طور پر معافی مانگتا ہوں۔

بحران کے ان لمحات میں وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کی اہمیت بھی بیان کی۔ انہوں نے کہا، بہت سے لوگ مجھ سے ناراض ہوں گے کہ انہوں نے کس طرح سب کو گھر میں بند رکھا ہوا ہے۔ میں آپ کی دقتیں سمجھتا ہوں، آپ کی پریشانی بھی سمجھتا ہوں لیکن ہندوستان جیسے 130 کروڑ کی آبادی والے ملک کے لئے یہ اقدامات کیے بغیر کورونا کے خلاف لڑنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ زندگی اور موت کی جنگ ہے۔ ہمیں اس جنگ میں جیتنا ہے اور اسی وجہ سے ان سخت اقدامات کو اٹھانا بہت ضروری تھا۔ کوئی بھی ایسے اقدامات اٹھانا پسند نہیں کرتا لیکن دنیا کی صورتحال کو دیکھنے کے بعد محسوس ہتا ہے کہ یہی واحد راستہ بچا ہے۔ آپ کو اپنے کنبہ کو محفوظ رکھنا ہوگا۔

وزیر اعظم مودی نے کورونا کے چیلنج سے ہموطنوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وائرس نے دنیا کو قید کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ علم، سائنس، غریب، امیر، کمزور، طاقت ور ہر ایک کو للکار رہا ہے۔ یہ نہ تو قوم کی حدود میں بندھا ہوا ہے اور نہ ہی کسی علاقہ کو دیکھتا ہے اور نہ ہی موسم کو۔

    Published: 29 Mar 2020, 12:29 PM