’میں دہلی میں آپ کا سپاہی ہوں، آپ کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر وقت موجود رہوں گا‘، تمل ناڈو میں راہل گاندھی کا خطاب

راہل گاندھی نے تمل ناڈو میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی تمل ناڈو کے تصور اور اس کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تمل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران راہل گاندھی، تصویر ’ایس‘ @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج تمل ناڈو کے مختلف علاقوں میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رانی پیٹ اور تھرائیور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خود کو تمل ناڈو کے عوام کا ’سپاہی‘ قرار دیا اور کہا کہ دہلی میں وہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت موجود ہیں۔

رانی پیٹ میں خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ’’بی جے پی تمل ناڈو کے تصور اور اس کی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن کسی بھی صورت میں بی جے پی اور آر ایس ایس ریاست میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت تمل ناڈو کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور ریاست کے فنڈز روک کر اسے کمزور بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تعلیم کے لیے مختص تقریباً 2000 کروڑ روپے روک لیے گئے ہیں، مدورائی میں ایمس منصوبہ تاخیر کا شکار ہے اور میٹرو کے لیے مرکزی مدد بھی سست کر دی گئی ہے۔


راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں تمل ناڈو کے عوام کے ساتھ اپنے خاندانی تعلق کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی دادی اور والد کے لیے عوام کی محبت آج بھی یاد ہے اور یہی رشتہ آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں دہلی میں آپ کا سپاہی ہوں، آپ کو جو بھی مدد یا تحفظ درکار ہو، میں حاضر ہوں۔ آپ صرف مجھے بتائیں کہ مجھے کیا کرنا ہے۔‘‘ پی ایم مودی پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ دباؤ میں نظر آتے ہیں اور اپوزیشن کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے ایسے معاہدے کیے ہیں جن سے ملک کی توانائی سلامتی، ڈاٹا اور کسانوں کے مفادات متاثر ہوئے ہیں اور آج ان کے فیصلے بیرونی دباؤ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو کنٹرول نہیں کر سکتے کیونکہ وہ ایک خود مختار لیڈر ہیں، اسی لیے انہیں ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں ڈی ایم کے-کانگریس اتحاد بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگا اور بی جے پی قیادت کو ریاست کے عوام کی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا۔


تھرائیور میں خطاب کے دوران بھی راہل گاندھی نے بی جے پی کو نشانے پر لیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’بی جے پی ملک میں نفرت اور عدم مساوات کو فروغ دے رہی ہے اور چند بڑی کمپنیوں کے سہارے اپنی انتخابی مشین چلا رہی ہے۔ تمل ناڈو کی سماجی انصاف کی روایت بی جے پی کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے کیونکہ یہ ریاست مساوات اور انصاف کے راستے پر گامزن ہے، خاص طور پر نچلی ذاتوں کے لیے۔‘‘ انہوں نے اے آئی اے ڈی ایم کے قیادت پر بھی حملہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بدعنوانی کے باعث ان کے لیڈران کمزور ہو چکے ہیں۔ ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس جیسے ادارے ان کے خلاف استعمال ہوئے ہیں، جس سے ان کی سیاسی پوزیشن مزید متاثر ہوئی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’’کانگریس پارٹی کا ماننا ہے تمل ناڈو پر حکومت صرف تمل عوام کا حق ہے اور اسے کبھی بھی دہلی سے چلنے والی کسی ’پراکسی حکومت‘ کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔