مدد کی ضرورت پڑی تو رام مندر تعمیر میں سب سے آگے رہوں گا: اقبال انصاری

ایودھیا اراضی معاملہ کے مدعی اقبال انصاری نے کہا کہ ’’میں ہمیشہ سے عدالت کا احترام کرتا رہا ہوں اور متنازع اراضی ملکیت کے معاملے میں بھی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتا ہوں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بابری مسجد اور رام مندر اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ نے فیصلہ رام مندر کے حق میں سنا دیا ہے۔ اس کے بعد مسلم فریقین آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور سنی وقف بورڈ میں کچھ حد تک مایوسی ہے لیکن ایودھیا معاملہ کے ایک اہم پیروکار اقبال انصاری نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے فیصلہ صادر ہونے کے بعد میڈیا سے کہا کہ ’’میں ہمیشہ سے عدالت کا احترام کرتا رہا ہوں اور متنازع اراضی ملکیت کے معاملے میں بھی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرتا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’اب جب کہ اس تنازع کا حل ہوچکا ہے تو ایودھیا کی گنگا- جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے میں ان سے جو بھی بن پڑے گا وہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔‘‘

رام مندر تعمیر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مدعی اقبال انصاری نے کہا کہ ’’ رام مندر کی تعمیرمیں اگر مدد کی ضرورت پڑی تو میں سب سے پہلے آگے آؤں گا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ رام پر کسی مخصوص ذات کا قبضہ نہیں ہے۔ وہ سب کے ہیں۔ اگر مندر تعمیر کے لئے کوئی ان سے مدد کا مطالبہ کرتا ہے تووہ اس پر ضرور غور کریں گے۔

اقبال انصاری نے سپریم کورٹ کے ذریعہ مسجد کے لیے 5 ایکڑ زمین دیئے جانے کے فیصلے پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو مسجد کے لئے پانچ ایکڑ زمین ایودھیا میں دینے کی ہدایت دی ہے۔ اب مرکز کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کتنی جلدی اور کہاں مسجد کے لئے زمین کا انتظام کراتا ہے۔‘‘