مجھے ’اچھے دن‘ کا احساس بالکل بھی نہیں ہو رہا: بی جے پی لیڈر

پنجاب کی سابق وزیر اور بی جے پی لیڈر لکشمی کانتا چاؤلہ نے سریو-یمنا ایکسپریس ٹرین کے سفر کے دوران ریلوے کی بدحالی کا نظارہ کیا اور پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ وزیر ریل گویل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

’’ٹرین سے سفر کے دوران مجھے ’اچھے دن‘ کا احساس بالکل بھی نہیں ہو رہا۔ پتہ نہیں ’اچھے دن‘ کا مزہ کون لے رہا ہے؟ افسوس کی بات ہے کہ عام لوگوں کے لیے تو ’اچھے دن‘ بالکل بھی نہیں آئے۔‘‘ یہ کہنا ہے کہ بی جے پی کی سینئر لیڈر لکشمی کانتا چاؤلا کا جو گزشتہ دنوں ’سریو-یمنا‘ ایکسپریس ٹرین سے سفر کر رہی تھیں اور ٹرین کی بدتر حالت کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پنجاب کی سابق وزیر صحت اور خاندانی فلاح و بہبود لکشمی کانتا نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر برائے ریلوے پیوش گویل کو اس بدتر حالت کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھیں یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ ’بلیٹ ٹرین‘ کی بات کرنا چھوڑیں اور جو ٹرینیں چل رہی ہیں ان کی حالت بہتر بنانے کی طرف توجہ دیں۔

دراصل اتوار کے روز جب وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے سب سے لمبے ریل اور سڑک پل کا افتتاح کر رہے تھے تو لکشمی کانتا چاؤلہ کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہو رہا تھا جس میں وہ ریلوے نظام کی خراب صورت حال پر سخت مایوسی کا اظہار کر رہی تھیں۔ ویڈیو میں بی جے پی لیڈر کہتی ہوئی نظر آئیں کہ وہ سریو-یمنا ایکسپریس ٹرین میں سفر کر رہی ہیں جو کہ ’فلائنگ ٹرین‘ کے نام سے مشہور ہے لیکن اس وقت 9 گھنٹے تاخیر سے چل رہی ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’یہ گاڑی اپنے وقت سے 9 گھنٹے لیٹ ہے۔ میری حکومت ہند سے اور مودی جی سے ایک ہی اپیل ہے کہ ہمارے اوپر اور عام آدمی پر ترس کرو۔ اس گاڑی میں دروازے ٹوٹے ہیں، بیت الخلا کی سیٹیں اور ٹوٹیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اے سی کے دروازے کھولنے کے لیے بھی طاقت لگانی پڑتی ہے۔‘‘

لکشمی کانتا نے موجودہ ریلوے نظام پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے نریندر مودی اور پیوش گویل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھگوان کے لیے ابھی بلیٹ کو بھولیے، جو گاڑیاں چل رہی ہیں ان کو تو ٹھیک سے چلائیے۔ اس سردی میں کس طرح سے لوگ فٹ پاتھ پر پڑے ہوئے ہیں، ریلوے اسٹیشن پر ویٹنگ روم نہ ہونے کی وجہ سے مسافر پریشان ہیں اور انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ اس طرف دھیان کیوں نہیں دیا جاتا۔‘‘ بار بار مودی جی اور پیوش گویل کا نام لے کر وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’ہمیں ٹی وی پر دکھایا جاتا ہے کہ اس نمبر پر شکایت کرنے سے بچے کا دودھ مل گیا اور ڈاکٹر پہنچ گیا، لیکن یہاں تو میں 138 اور 139 نمبر پر کال کرتی رہی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ مجھے لگتا ہے کہ بس یہ اخباری اشتہار ہی تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فون کرنے پر ان کا مسئلہ حل ہو گیا۔‘‘ ویڈیو میں لکشمی کانتا نے پیوش گویل جی کو ای میل کیے جانے کی بات بھی کہی لیکن انھیں کوئی جواب حاصل نہیں ہوا۔ وہ اس طرح ٹرین میں سفر کو لے کر مایوسی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ ’’شتابدی اور راجدھانی ٹرینیں اچھی ہو گئی ہیں لیکن عام لوگوں کی ٹرین کا کیا ہوا۔ پرانی دہلی کا کیا حال کر دیا گیا جہاں گاڑی اسٹیشن پر لگتی ہے تو پانی پینے کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ ریہڑی والے کو ہٹا دیا تو کھانے کا انتظام تو کیجیے۔‘‘

ویڈیو میں بے حد ناراض نظر آ رہی لکشمی کانتا نے پی ایم مودی اور وزیر ریل پیوش گویل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’یہاں تو یہ حال ہے کہ اندھیر نگری اور چوپٹ راجہ، اور آپ بات کرتے ہیں روزگار دینے کا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ انجینئرنگ کے بچے صفائی کر رہے ہیں۔ ریلوے میں بیٹھ کر تو بالکل نہیں لگتا کہ اچھے دن آئے ہیں۔ گاڑیوں میں تو بیٹھ کر لگتا ہے کہ گاڑیوں کے دن بہت برے ہو گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے پیوش گویل کو اس ٹرین میں سفر کرنے کی اپیل بھی کی جس میں عام لوگ سفر کرتے ہیں اور ساتھ ہی کہا کہ وہ لوگوں کی تکلیف سن کر ان کا مسئلہ حل کریں۔

لکشمی کانتا نے ریلوے میں بدعنوانی کی بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ ٹکٹ چیکنگ کرنے والے مسافروں کو ٹکٹ فروخت کر رہے ہیں۔ تین لوگوں کے ٹکٹ کے لیے 4500 روپے لیے گئے ہیں۔ لکشمی کانتا اس بات سے بھی کافی مایوس نظر آئیں کہ ٹرینیں تاخیر سے چل رہی ہیں تو اس کا سبب بھی مسافروں کو نہیں بتایا جا رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’سریو-یمنا ایکسپریس ٹرین کو فلائنگ ٹرین کہا جاتا ہے۔ پتہ نہیں،ابھی تو اس کا حال بہت برا نظر آ رہا ہے۔‘‘