جنید کے قاتلوں کے خلاف کھڑے ہوئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ ملیالی مصنف

ملیالی مصنف کے. پی. رامااُنّی ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کی انعامی رقم جنید کی ماں سائرہ بیگم کے سپرد کرتے ہوئے

ملیالی مصنف کے. پی. رامااُنّی نے انعام کی رقم جنید کی ماں سائرہ بیگم کو سونپتے ہوئے کہا کہ ’’میں سچا ہندو ہوں اور فسطائی تشدد سے شرمندہ ہوں۔‘‘

ملک میں بڑھتے فسطائی حملوں کے خلاف آج بھی ادبی ہستیاں سرگرم ہیں اور اپنا احتجاج بھی کھل کر ظاہر کر رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال ساہتیہ اکادمی کے جلسہ تقسیم انعامات کے دوران دیکھنے کو ملی۔ کیرالہ کے مصنف کے. پی. رامااُنّی نے 12 فروری 2017 کو اپنی کتاب ’گاڈ اون بک‘ پر حاصل ساہتیہ اکادمی انعام کی رقم ایک لاکھ روپے گزشتہ سال شدت پسند ہندوتوادی گروپ کے ذریعہ چلتی ٹرین میں مارے گئے جنید کی ماں سائرہ بیگم کے سپرد کر دی۔ اس طرح سے انھوں نے 2015 میں گئوکشی کی افواہ کے نام پر مارے گئے اخلاق کے قتل کے بعد ادبی ہستیوں میں پیدا ناراضگی کے شعلے کو زندہ رکھا ہے۔

بطور مصنف کے پی رامااُنّی لگاتار مذہبی اور ذات پر مبنی تشدد کے خلاف لکھتے رہے ہیں اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملنے کے بعد انھوں نے بڑھتے تشدد اور ریاست کے فسطائی چہرے کے خلاف بالکل نئے ڈھنگ سے احتجاج درج کرایا۔ ساہتیہ اکادمی کی تاریخ میں ابھی تک کسی بھی ادیب نے انعامی رقم کو فوراً ہی کسی کے سپرد کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ وہ اپنے احتجاج کے بارے میں پوری طرح سے تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ جنید کی ماں اور ان کے بھائی پورے وقت تقریب میں بیٹھے رہے۔ رامااُنّی پہلے سے تقریباً ایک لاکھ روپے کا چیک سائرہ بیگم کے نام لکھ کر لائے تھے۔ انھوں نے ’قومی آواز‘ سے بات چیت کے دوران بتایا کہ یہ انعامی رقم میں جلد سے جلد سائرہ بیگم کے اکاؤنٹ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ میرے اوپر ایک بوجھ ہے کہ بطور ہندوستانی شہری جنید کو انصاف دلانے کے لیے میں ابھی تک کچھ بھی نہیں کر پایا ہوں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں ایک ہندو ہوں... ایک سچا ہندو۔ ایک سچا ہندو غلطی پر پچھتاتا ہے... میرے مذہب کے نام پر جو بھی تشدد ہو رہا ہے ہم اس سے متفق نہیں ہیں، تو ہمیں یہ بتانا ہوگا کہ یہ غلط ہو رہا ہے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو سب قصوروار ہیں۔ ہندو ہونے، مصنف ہونے کے ناطے میرا واضح طور پر یہ کہنا ہے کہ جو فسطائی قوتیں ملک میں ہنگامہ برپا کر رہی ہیں، معصوموں کو مار رہی ہیں، ان کے خلاف میں اپنی قلم کے ساتھ کھڑا ہوں۔

جنید کی ماں سائرہ بیگم نے اس موقع پر بتایا کہ ’’رامااُنّی کی مدد صرف معاشی ہی نہیں ہے بلکہ جنید کو انصاف دلانے والی لڑائی کو حوصلہ دینے والی ہے۔ اس سے ہمیں لگتا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیرالہ سے مسلم لیگ کے لوگوں نے جو مدد کی ہے اور اب کیرالہ کے مصنف ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ ملک کے لوگ جنید کے قتل کو بھولے نہیں ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ادیبوں میں ملک کے موجودہ حالات کے تئیں گہری فکرمندی اور ناراضگی ہے۔ یہ ناراضگی وقتاً فوقتاً ظاہر بھی ہوتی رہی ہے۔ ’ناٹ اِن مائی نیم‘ جیسی مہم میں اس کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔ کیرالہ کے اہم مصنف کے پی رامااُنّی کا انعامی رقم تشدد کے خلاف ایک پیغام کے ساتھ سائرہ بیگم کے سپرد کرنا اسی کڑی کا حصہ ہے۔ اس کی گونج کتنی دور تک جائے گی اور ادبی حلقے کا احتجاج کیا رنگ لائے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن یہ طے ہے کہ احتجاج اور مخالفت کا یہ طریقہ نایاب ہے اور فسطائی طاقتوں کے منھ پر طمانچہ بھی۔

سب سے زیادہ مقبول