آکسیجن کی کمی انتظامیہ کی ناکامی تھی، مجھے بلاوجہ پھنسایا گیا: ڈاکٹر کفیل

ڈاکٹر کفیل جب اسپتال سے ای سی جی ٹیسٹ کرا کر نکلے اور میڈیا سے بات کر رہے تھے تو چند جملوں کے بعد ہی پولس والوں نے ان کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کچھ بولنے نہیں دیا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

منوج سنگھ

گورکھپور: 10 اگست 2017 کو بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے آکسیجن کمی معاملے میں 7 مہینے سے زائد وقت سے جیل میں بند میڈیکل کالج کے محکمہ امراض اطفال کے ترجمان اور این ایچ ایم کے نوڈل انچارج رہے ڈاکٹر کفیل خان کو آج جانچ کے لیے جیل سے ضلع اسپتال لایا گیا۔ قلب میں شکایت پر ان کی آج ضلع اسپتال کے محکمہ امراض قلب میں ای سی جی کرائی گئی اور پھر واپس جیل بھیج دیا گیا۔ اس دوران میڈیا سے بات چیت کے دوران ڈاکٹر کفیل نے آکسیجن کی کمی کے معاملے میں خود کو بے قصور بتایا اور کہا کہ ’’ آکسیجن خریداری سے میرا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ یہ معاملہ پوری طرح سے انتظامیہ کی ناکامی سے متعلق تھا۔ مجھے پھنسایا گیا ہے۔ جب اوپر سے ہی بجٹ نہیں آیا تھا تو پیمنٹ کہاں سے ہوتا؟‘‘

قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے روز ڈاکٹر کفیل احمد نے بلڈ پریشر بڑھنے اور سینے میں درد کی شکایت کی تھی۔ اس کے بعد ضلع اسپتال سے ڈاکٹر کو بلا کر انھیں دکھایا گیا۔ ڈاکٹر نے ای سی جی، ٹی ایم ٹی، ایکو، ٹرائی گلسرائیڈ اورلیپڈ پروفائل جانچ کرانے کو کہا۔ اس جانچ کے لیے ڈاکٹر کفیل کو ضلع اسپتال یا بی آر ڈی میڈیکل کالج لے جانا پڑتا۔ اس کے لیے جیل انتظامیہ نے پولس کا مطالبہ کیا۔ جیل انتظامیہ کو چار دن بعد جب آج پولس اہلکار ملے تو انھیں جانچ کے لیے ضلع اسپتال بھیجا گیا۔

ڈاکٹر کفیل کو آج صبح 10.45 بجے ایک ایمبولنس میں پولس کے ساتھ جیل سے ضلع اسپتال بھیجا گیا۔ ڈاکٹر کفیل سفید ٹی شرٹ اور نیلی جینس پہنے ہوئے تھے اور ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ انھیں ضلع اسپتال کے محکمہ امراض قلب میں لے جایا گیا جہاں کارڈیولوجسٹ ڈاکٹر کے کے شاہی نے ان کی ای سی جی کی۔ یہاں پر پہلے سے بڑی تعداد میں میڈیا کے لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر کفیل جب جانچ کے بعد باہر نکلے تو میڈیا نے ان سے سوال پوچھا جس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کی کوئی غلطی نہیں ہے اور بلاوجہ انھیں پھنسایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر کفیل کا اتنا کہنا تھا کہ پولس اہلکاروں نے ان کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ وہ مزید کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن پولس والوں نے انھیں بولنے نہیں دیا اور ایمبولنس میں بٹھا کر جیل لے گئے۔

جیل ڈویژن کے سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ دھنی رام نے بتایا کہ سیکورٹی ملنے کے بعد ڈاکٹر کفیل کو ضلع اسپتال بھیج کر ای سی جی کرائی گئی ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ان کی مزید دوسری جانچ کیوں نہیں کرائی گئی، تو ان کا جواب تھا کہ ’’اگر ایکو، ٹی ایم ٹی وغیرہ جانچ کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی کرائی جائے گی۔‘‘

اس سے قبل 17 اپریل کو گورکھپور کے اسپیشل جج (پریونشن آف کرپشن ایکٹ) نے سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ کو قانون کے مطابق ڈاکٹر کفیل کو ضروری علاج دستیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔ ڈاکٹر کفیل نے اپنے وکیل کے ذریعہ امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر سے علاج کرانے کی اپیل کی تھی۔ انھوں نے اپنی درخواست میں لکھا تھا کہ ’’میں قلب کا مریض ہوں۔ مجھے مارچ 2017 میں ہارٹ اٹیک آیا تھا اور ایک ہفتہ تک اسپتال میں بھی داخل رہا۔ جیل میں ان کے سینے میں درد بڑھ گیا ہے اور یہاں کوئی امراض قلب کا ماہر نہیں ہے اس لیے ان کا مناسب طریقے سے علاج نہیں ہو پا رہا ہے۔ اگر انھیں اچانک دل کا دورہ پڑ جائے تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘

اس سے ایک دن قبل یعنی 16 اپریل کو ڈاکٹر کفیل کی بیوی ڈاکٹر شبستاں خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے شوہر بیمار ہیں پھر بھی جیل انتظامیہ انھیں ضروری علاج مہیا نہیں کرا رہی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹر کفیل کا وزن آٹھ کلو کم ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ شبستاں خان نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ ’’ڈاکٹر کفیل کو ملاحظہ بیرک میں رکھا گیا ہے جس کی صلاحیت 60 قیدیوں کی ہے لیکن اس وقت وہاں 150 سے زیادہ قیدی ہیں۔ اس وجہ سے انھیں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 19 Apr 2018, 5:37 PM