حیدرآباد: حسین ساگر میں گنیش مورتی وسرجن پر پابندی عائد کرنے کی عرضی پر ہائی کورٹ میں سماعت

عرضی پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ کی بنچ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ مورتیوں کے حسین ساگر میں وسرجن پر پابندی عائد کرنے کے تعلق سے کیا اقدامات لئے جا سکتے ہیں۔

تلنگانہ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
تلنگانہ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

حیدرآباد: تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں واقعہ حسین ساگر میں گنیش چترتھی کے موقع پر مورتی وسرجن پر پابندی عائد کرنے کے مطالبہ والی عرضی پر بدھ کے روز ہائی کورٹ میں سماعت کی گئی۔ سماعت کے دوران تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس معاملہ پر آئندہ سماعت کے دوران فیصلہ سنائے جانے کی توقع ہے۔

خیال رہے کہ حسین ساگر میں گنیش چتورتھی کے موقع پر مورتیوں کے وسرجن کے خلاف وینومادھو نامی وکیل نے عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔ عرضی کے ذریعے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حسین ساگر میں مورتیوں کے وسرجن پر پابندی عائد کی جائے۔


عرضی پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ کی بنچ نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ مورتیوں کے حسین ساگر میں وسرجن پر پابندی عائد کرنے کے تعلق سے کیا اقدامات لئے جا سکتے ہیں۔ عدالت نے حکومت کے علاوہ گنیش اتسو سمیتی اور عرضی گذار کو بھی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عدالت عالیہ نے ریمارک کیا کہ کورونا کی صورت حال اور حسین ساگر میں آلودگی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے رائے دی ہے کہ ممکن ہو سکے تو مورتیوں کا وسرجن مقامی سطح پر کیا جائے۔ اجتماعی طور پر حسین ساگر میں مورتیوں کے وسرجن کے دوران اس بات کا خیال رکھا جائے کہ حسین ساگر کو نقصان نہ ہونے پائے۔ اس معاملہ میں تمام مشوروں پر غور کیا جائے گا اور اس ماہ کی 6 تاریخ کو عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔