ممتاز شاعرمضطر مجاز کا انتقال، ادبی دنیا ایک قدآور شاعر سے محروم

مضطر مجاز کی پوری زندگی شعر و ادب کی آبیاری میں صرف ہوی۔ جہاں وہ ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے وہیں بلند پایہ مترجم، نقاد اور صحافی بھی تھے۔

یو این آئی

حیدرآباد: یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جاے گی کہ حیدرآباد کے ممتاز شاعر اور ترجمان غالب و اقبال مضطر مجاز کا آج شام اچانک انتقال ہو گیا۔ وہ 83 سال کے تھے۔

مضطر مجاز کی پوری زندگی شعر و ادب کی آبیاری میں صرف ہوی۔ جہاں وہ ایک منفرد لب و لہجے کے شاعر تھے وہیں بلند پایہ مترجم، نقاد اور صحافی بھی تھے۔ ان کے دو شعری مجموعے ''موسم سنگ'' اور''اک سخن اور'' کے علاوہ ان کی شاعری کی کلیات'' طلسم مجاز'' کے عنوان سے شایع ہو چکی ہے۔ وہ اردو کے علاوہ فارسی کے بھی ماہر تھے، خاص کر اقبالیات کے باب میں انھیں درجہ استناد حاصل تھا۔

مضطر مجاز کے کئی تراجم مثلأ'' پیام مشرق'' '' جاوید نامہ'' '' زنداں نامہ غالب وغیرہ کے علاوہ ان کے تمام منظوم تراجم کا کلیات بھی زیور طباعت سے آراستہ ہو چکا ہے۔ انھیں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ اس مدت میں انھوں نے اپنے آپ کو اردو زبان و ادب کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا۔

روزنامہ منصف کے ادبی صفحہ کی ادارت کے علاوہ کئی علمی و ادبی حلقوں سے ان کی وابستگی تھی۔ حیدرآباد کے تمام ادبا شعراء، اہل علم اور دانشور انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وہ ملک گیر مقبولیت کے حامل تھے۔ مضطر مجاز کا انتقال شعر و ادب کی دنیا کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی نماز جنازہ کل (20 اکتوبر) بعد نماز ظہر مسجد اجالے شاہ میں ادا کی جائے گی اور تدفین بھی وہیں عمل میں آے گی۔ مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار فرزندان اور ایک دختر شامل ہیں۔