حیدر آباد انتخابات: ٹی آر ایس 55 سیٹوں کے ساتھ سرفہرست، لیکن بی جے پی نے ’اویسی‘ کو دیا جھٹکا

جی ایچ ایم سی کی 150 سیٹوں میں سے 149 سیٹوں کا نتیجہ برآمد ہوا جن میں 55 سیٹیں ٹی آر ایس کو، 48 سیٹیں بی جے پی کو، 44 سیٹیں اے آئی ایم آئی ایم کو اور 2 سیٹیں کانگریس کو ملی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

گریٹر حیدر آباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) انتخاب کا نتیجہ برآمد ہو گیا ہے اور یہ ایک طرف جہاں تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کے لیے بہت زیادہ خوش آئند نہیں ہے، وہیں اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی) کے لیے بھی زبردست جھٹکا ثابت ہوا ہے۔ بی جے پی کی کارکردگی اس الیکشن میں حیران کن رہی کیونکہ اس نے 150 سیٹوں میں سے 48 سیٹوں پر قبضہ جما کر دوسری سب سے بڑی پارٹی بننے کا فخر حاصل کر لیا ہے۔ ٹی آر ایس نے گزشتہ مرتبہ 99 سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی اور امید کر رہی تھی کہ وہ اس بار سنچری بنانے میں کامیاب ہوگی، لیکن اسے محض 55 سیٹیں ہی حاصل ہو سکیں۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ فی الحال 149 سیٹوں کا ہی نتیجہ برآمد ہوا ہے اور نریڈمیٹ ڈویژن کا ریزلٹ ابھی روک دیا گیا ہے اور ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق اس کا ریزلٹ جاری کیا جائے گا۔ نریڈمیٹ میں ٹی آر ایس ایس 505 ووٹوں سے آگے ہے لیکن 544 بیلٹس پر سواستک کا نشان ہونے کی وجہ سے مسائل پیش آ گئے ہیں۔

بہر حال، اسدالدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کے لیے ریزلٹ مایوس کن اس لیے ٹھہرایا جائے گا کیونکہے م تھی کہ وہ اس بار سنچری بنانے می گزشتہ مرتبہ اسے 44 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں اور اس بار وہ یہ تعداد بڑھنے کو لے کر پرامید تھی، لیکن بی جے پی نے اسے بری طرح نقصان پہنچایا۔ کئی سیٹوں پر سخت مقابلے میں بی جے پی امیدوار نے اے آئی ایم آئی ایم امیدوار کو شکست دی، نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی ایک بار پھر 44 سیٹوں تک ہی محدود رہ گئی اور تیسرے مقام پر پہنچ گئی۔

https://twitter.com/TOIHyderabad/status/1334884874067476480?s=20

بی جے پی کی بہترین کارکردگی کے بعد حیدر آباد میں بی جے پی کارکنان جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ کئی مقامات پر بی جے پی کارکنان آتش بازی کر رہے ہیں اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی اور تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے کمار کو بھی مٹھائی تقسیم کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بی جے پی کی کامیابی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ پی ایم مودی کی قیادت والی بی جے پی پر تلنگانہ کی عوام کا بھروسہ ہے جو ڈیولپمنٹ کی سیاست کو پسند کر رہے ہیں۔‘‘ امت شاہ نے بی جے پی کارکنان کو اس کامیابی کے لیے مبارکباد بھی دی۔

دوسری طرف کانگریس کی خراب کارکردگی کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ کانگریس صدر اتم کمار ریڈی نے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جی ایچ ایم سی انتخاب میں اس بار کانگریس کو محض 2 سیٹیں حاصل ہو سکی ہیں جو کہ انتہائی مایوس کن کارکردگی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ریزلٹ ویسا نہیں ہے جیسا کہ امید کی جا رہی تھی، اور اس بارے میں جائزہ لیا جائے گا کہ کہاں کمی رہ گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 04 Dec 2020, 10:29 PM
next