حیدرآباد: فرضی فارم-7 معاملے میں بی جے پی کے بوتھ ایجنٹ پر مقدمہ درج، 30 ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش

حیدرآباد پولیس نے بی جے پی کے ایک بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ملزم کا نام ایس. بالاچندر ہے، جو مشیرآباد اسمبلی حلقے میں بی جے پی کا بی ایل اے ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایف آئی آر، تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i

تلنگانہ میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کے لیے فرضی فارم-7 کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حیدرآباد پولیس نے بی جے پی کے ایک بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ملزم کا نام ایس. بالاچندر ہے، جو مشیرآباد اسمبلی حلقے میں بی جے پی کا بی ایل اے ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے 30 پری پرنٹڈ فارم-7 جمع کرا کے ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے کی کوشش کی۔ چکڑپلی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 217 اور (2)318 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی مشیرآباد کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) ٹی. پروین کمار کی شکایت کے بعد کی گئی۔

شکایت کے مطابق بالاچندر 28 ستمبر کو پولنگ اسٹیشن نمبر 210 پر 30 ڈیجیٹل پری پرنٹڈ فارم-7 لے کر پہنچا تھا۔ ان فارموں میں 30 ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جن میں کانگریس کے ایک بی ایل اے اور اس کے اہل خانہ کے افراد بھی شامل تھے۔ بالاچندر نے خود ان فارموں پر دستخط کیے تھے اور انہیں بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کو دینے کی کوشش کی۔ بی ایل او نے ایک ساتھ اتنے فارم لینے سے انکار کر دیا اور کوئی رسید بھی نہیں دی، جس کے بعد وہ فارم وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ بعد میں کی گئی جانچ میں پتہ چلا کہ جن 30 افراد کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی، وہ سب اپنے درج شدہ پتے پر ہی رہ رہے ہیں۔ یعنی فارم میں دی گئی معلومات غلط تھیں۔


چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) سی. سدھرشن ریڈی نے 5 اکتوبر کو حکم دیا تھا کہ فارم 6، 6اے، 7 اور 8 میں قصداً جھوٹا بیان دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سی ای او نے تمام ڈی ای او سے کہا تھا کہ ووٹر رجسٹریشن رولز 1960 کے رول 20 کے تحت جانچ کرنے کے بعد کارروائی کی جائے۔ اس حکم کے بعد تلنگانہ میں یہ پہلا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسی طرح کے پری پرنٹڈ فارم بہادرپورہ اور گوشہ محل اسمبلی حلقوں میں بھی سامنے آئے ہیں۔ ان میں جن لوگوں کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی، وہ سبھی مسلمان تھے، جس کی وجہ سے ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) نے شکایت درج کرائی تھی، جس کے بعد سی ای او نے جی ایچ ایم سی کمشنر، حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور تمام اضلاع کے کلکٹروں کو ایسے معاملات میں مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ پورے تلنگانہ میں اب تک 28753 فارم-7 موصول ہوئے ہیں، جن میں تقریباً 5000 صرف حیدرآباد سے ہیں۔ ٹی پی سی سی نے حیدرآباد پولیس کمشنر سے بھی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ وہیں اے آئی ایم آئی ایم نے بھی منگل کے روز سی ای او سے شکایت کی۔


آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے خط لکھ کر بتایا کہ گوشہ محل کے پولنگ اسٹیشن نمبر 28 پر تھڈومو جناردھن نامی شخص نے 122 فارم-7 جمع کرائے ہیں۔ ان میں جن ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے، ان کے نام پہلے سے پرنٹ کیے گئے ہیں، جبکہ فارم بھرنے والے شخص نے اپنا نام اور نمبر لکھا ہے۔ اویسی نے اسے مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی گہری سازش قرار دیا۔ ایس آئی آر کے عمل میں دعوے اور اعتراضات کا مرحلہ 7 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے اور 5 نومبر تک ان کا نپٹارا کیا جائے گا۔ حتمی ووٹر لسٹ 9 نومبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔