حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ: بے گناہوں کو دہشت گرد بناکر پیش کیا گیا، ارشد مدنی

این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 11 سال پرانے حیدرآباد بم دھماکہ معاملہ میں گزشتہ روز فیصلہ سنایا اور دو ملزمان کو باعزت بری کر دیا جبکہ دو ملزمان کو قصوروار قرار دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

بے گناہوں سے خون کی ہولیاں کھیلنے والے فرقہ پرستوں کی چادروں میں چھپے ہوئے ہیں: مولانا ارشد مدنی

نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشد مدنی نے خصوصی عدالت کے فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں دو ملزمان کو عدالت کا باعزت رہا کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں کس طرح بے گناہوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے اور بے گناہ شہریوں کے خون کی ہولیاں کھیلنے والے درحقیقت فرقہ پرست طاقتوں کی چادروں کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔

گزشتہ دنوں مہاراشٹرامیں سناتن سنتھا کے پانچ کارکنان کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد مدنی نے کہا کہ پولس نے انہیں اسلحہ اورگولہ بارودکے ساتھ گرفتارکیا ہے اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ لوگ بڑی کارروائیاں انجام دینے والے تھے مگر ملک کی میڈیا نے اس واقعہ کو سرسری اندازمیں پیش کیا اس کے برعکس جب دوسرے لوگوں کو گرفتارکیا جاتا ہے تو اکثر الکٹرانک میڈیا انہیں خطرناک دہشت گرد قراردے کر ان کا ٹرئل بھی شروع کردیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب یہی لوگ عدالتوں سے باعزت بری ہوتے ہیں تو اکثر میڈیا چپ رہتا ہے ایک لائن کی خبر بھی نہیں دیکھائی جاتی، انہوں نے کہا کہ اکثر میڈیا اور اکثرپولس کے اس دہرے رویہ کے خلاف ہم مسلسل آواز اٹھاتے آئے ہیں لیکن حکومت نے کبھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ طویل قانونی جدوجہد کے بعد اس طرح کے معاملہ میں جب بے گناہوں کو انصاف ملتا ہے اس وقت تک ان کی زندگیاں تباہ ہوچکی ہوتی ہیں اور ان کے قیمتی ماہ وسال سلاخوں کے پیچھے گزرچکے ہوتے ہیں۔

واضح رہے، گزشتہ روز سال 2007ء میں حیدرآباد کے لمبنی پارک، دلسکھ نگر اور گوکل چاٹ مقامات پر ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں چیرا پلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت نے فیصلہ صادر کرتے ہو ئے چار ملزمین میں سے ایک جانب جہاں دو ملزمین کو باعزت بری کردیا وہیں دو ملزمین کو قصور وار ٹہرایا ہے اور ان کی سزاء کے تعین کے لیئے 10؍ ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

اس معاملے میں ماخوذ ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری، عنیق شفیق سید، فاروق شرف الدین ترکش اور محمد صادق اسرار شیخ کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے اور ملزمین کے دفاع میں متعدد وکلاء کو مقرر کیا گیا۔ یہ اطلاع آج ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا چراپلی سینٹرل جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج شرینواس نے ناکافی ثبوت وشواہد کی بنیادوں پر ملزمین فاروق شرف الدین ترکش اور صادق اسرار شیخ کو دہشت گردی کے الزامات سے باعزت بری کردیا وہیں ملزمین محمد اکبر اسماعیل چودھری اور عنیق شفیق سیدکو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اس معاملے میں تحقیقاتی دستوں نے ملزمین کو انڈین مجاہدین نامی تنظیم کا رکن بتایا تھا اور تین علیحدہ علیحدہ چارج شیٹ داخل کی تھیں جبکہ ایک دیگر ملزم طارق انجم کو متذکرہ ملزمین کو دہلی میں رہائش مہیا کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلا یا گیا۔ جس کا فیصلہ 10 ستمبر کو دیا جائے گا۔ گلزار اعظمی نے بتایا کہ 10ستمبر کو دفاعی وکلاء خصوصی عدالت سے ملزمین کو کم سے کم سزاء دیئے جا نے کی درخواست کریں گے اور مکمل فیصلہ آجانے کے بعد سینئر وکلاء سے صلاح ومشورہ کرکے اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

مولانا ارشد مدنی نے سوال کیا کہ اس کے لئے جواب دہی طے نہیں ہونی چاہئے اور کیا اس کے لئے متاثرین کو معاوضہ نہیں ملنا چاہئے؟ مولانا مدنی نے کہا کہ کیا اکثرمیڈیا اور متعصب پولس افسران، گورنمنٹ کی ایجنسیاں ذمہ دارنہیں ہیں؟ جنہوں نے اپنی پوری جدوجہد کے باوجود ان کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکیں، کیونکہ یہ سب فرضی تھا اس لئے حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کو قابل قدرمعاوضہ دیا جائے کیونکہ ان کی تباہی کے اصل ذمہ دار گورنمنٹ اورخود ان کی ایجنسیاں اور متعصب پولس افسران ہیں، جمعیۃعلماء ہند باربار یہ آوازاٹھاتی رہی ہے لیکن یہ معقول مطالبہ صدابصحرا ثابت ہوتا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تک سیکڑوں لوگ دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ہوچکے ہیں مگر اس کے لئے نا تو کسی سے کسی طرح کی کوئی بازپرس ہوئی اور نہ ہی متاثرین کو کسی طرح کا کوئی معاوضہ ہی ملا انہوں نے کہا کہ اسی لئے میں اکثرکہتا ہوں کہ یہ انصاف ادھورا ہے انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ سے عدلیہ پر میرے اعتماد میں مزید مضبوطی آئی ہے اس لئے کہ جو کام حکومت کوکرنا چاہئے تھا وہ کام عدالتیں کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ 11 سال پہلے حیدرآباد کے گوکل چاٹ بھنڈار اور لمبنی پارک میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد تلنگانہ پولس کے کاؤنٹر انٹلی جینس شعبہ نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھی نیز دوران سماعت 170 سرکاری گواہوں نے ملزمین کے خلاف عدالت میں گواہی دی تھی جبکہ سیکڑوں دستاویزات کو استغاثہ نے عدالت میں بطور ثبوت پیش کیا تھا جبکہ دفاعی وکلاء نے گواہوں سے جرح کرنے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ملزمین کے دفاع میں حتمی تحریری بحث بھی داخل کی تھی۔ ان دونوں جگہوں پر رونما ہونے والے بم دھماکوں میں کل 42 افراد ہلاک اور 50 دیگر زخمی ہو ئے تھے۔

Published: 5 Sep 2018, 9:51 AM