حیدرآباد: صدائے اُمّت کانفرنس میں نئی قیادت ابھارنے پر اتفاق

نذر عباس نے کہا کہ ملت کے دلالوں نے صدائے امت کانفرنس کو ناکام کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اب اس کانفرنس کا پیغام امت تک پہنچ چکا ہے اور وہ فیصلہ کرے گی کہ کون بیوپاری ہے اور کو ن قربانی دینے والا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

حیدرآباد: دوروزہ آل انڈیا صدائے امت کانفرنس کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمد سلیم سابق مارکسی ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ شہریوں کا قومی رجسٹر ایسی چیز نہیں کہ اس سے خوف زدہ ہوا جائے بلکہ اس کے برعکس تمام تر ذمہ داری کے ساتھ اس کا سامنا کیا جائے، انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان کی سخت مذمت کی کہ غیر مسلم دراندازوں کو شہریت دی جائے گی اور دوسروں کو غیر ملکی سمجھا جائے گا۔ یہ غیر آئینی ہے اور حکومت کا رویہ جارحانہ ہے۔ مسلمان ہندوستانی آبادی کا حصہ ہیں انہیں شہریت سے محروم کرنا غیر انسانی فعل ہے۔

حیدرآباد: صدائے اُمّت کانفرنس میں نئی قیادت ابھارنے پر اتفاق

مہدی پٹنم میں ڈیسنٹ میرج ہال میں منعقدہ اس عوامی جلسہ میں علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹ لیڈر ڈاکٹر نذر عباس نے حیدرآباد پولس، ریاستی ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ اور مقامی عوامی نمائندہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کی آواز کچلنے کی ایسی سازش ہے جس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ اس لئے حیدرآباد کے عوام کو اس زیادتی کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔ صاحبزادہ سید کامران چشتی ( اجمیر شریف) نے مذہبی قیادت کی آڑ میں مختلف طاقتوں کے ساتھ ملت کا سودا کرنے والوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا کے مغربی بنگال کے رکن ابو طالب رحمانی نے یہ تسلیم کیا کہ وہ ملت کے چوکیدار ہیں۔ کچھ مقامی نمائندوں نے بھی خطاب کیا اور کچھ کو خطاب کا موقعہ دیئے بغیر حیدراباد پولس نے جلسہ ختم کروا دیا۔ اس طرح کی سختی کا کوئی جواز نہیں تھا مگر انتظامیہ کی بدنیتی ظاہر تھی۔

حیدرآباد: صدائے اُمّت کانفرنس میں نئی قیادت ابھارنے پر اتفاق

واضح رہے کہ مسلمانوں کے اہم مسائل پر غوروخوض کے لئے یہاں پہلی بار باضابطہ پیشہ ور سیاست دانوں، اسکالروں، دانشوروں، پروفیسروں، سیاسی اور سماجی مفکروں، مصنفوں اور اردو، انگریزی اور ہندی کے صحافیوں کا دو روزہ اجلاس طلب کیا گیا تھا جس کے دوسرے دن عوامی جلسہ عام روش کے مطابق نمائش میدان میں ہونا تھا جس میں دانشوروں کے علاوہ علما، مشائخ، ائمہ، موجودہ اور سابق ممبران پارلیمنٹ اور عوامی نمائندوں کی شرکت طے تھی۔

ایک دن قبل حیدرآباد پولس نے ان دونوں دن کے اجلاسوں کی اجازت دینے سے اس بنیاد پر انکار کر دیا کہ موب لنچنگ، شہریوں کے قومی رجسٹر، نصاب کے بھگوا کرن، اتحاد ملت اور تحفظ شریعت سمیت جن امور پر تبادلہ خیال ہونا ہے ان سے نقص امن کا خطرہ ہے۔ تحریک مسلم شبان کے کارکنوں نے بیک آواز کہا کہ یہ کام مقامی ایم پی اسدالدین اویسی کی ایما پر ریاستی انتظامیہ نے کیا اور اس کا مقصد کسی نئی قیادت کو ابھرنے سے روکنا ہے۔ اس سے ایک دن قبل آل انڈیا صدائے امت کانفرنس کے مندوبین کا اجلاس دوپہر سے رات 11 بجے تک تحریک مسلم شبان کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔

دہلی، یوپی، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر، راجستھان اور پنجاب سمیت مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے مندوبین نے ملت کے اہم اور سلگتے ہوئے مسائل پر تفصیلی مباحثے کیے۔ اس اجلاس میں تقریباً دس قرار دادیں منظور کی گئیں۔ جنہیں سماجی مفکر اور دانشور اشہر ہاشمی نے پیش کیں تھیں۔

نذر عباس نے اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملت کے دلالوں نے صدائے امت کانفرنس کو ناکام کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اب اس کانفرنس کا پیغام امت تک پہنچ چکا ہے اور وہ فیصلہ کرے گی کہ کون بیوپاری ہے اور کو ن قربانی دینے والا۔

Published: 23 Oct 2019, 6:50 PM