حیدرآباد: اغوا اور عصمت ریزی کا ڈرامہ کرنے والی طالبہ نے کی خودکشی

فروری ماہ کی 10 تاریخ کو گھٹکیسر علاقے میں بی فارمیسی سال دوم کی طالبہ نے اپنی ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے اس نے اغوا اور عصمت دری ہونے کا ڈرامہ کرتے ہوئے پولیس اور میڈیا کو گمراہ کیا تھا۔

علامتی، تصویر یو این آئی
علامتی، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

حیدرآباد: شہر حیدر آباد میں دو ہفتہ قبل آٹو ڈرائیور کی جانب سے اغوا کیے جانے اور اجتماعی عصمت دری ہونے کا ڈرامہ کرنے والی 19 سالہ بی فارمیسی کی طالبہ نے رشتہ داروں اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر اس پر کی جا رہی نکتہ چینی کے سبب خودکشی کر لی۔

جاریہ ماہ کی 10 تاریخ کو گھٹکیسر علاقے میں بی فارمیسی سال دوم کی طالبہ نے اپنی ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے اس کا اغوا اور عصمت دری ہونے کا ڈرامہ کرتے ہوئے پولیس اور میڈیا کو گمراہ کیا تھا لیکن پولیس کی سائنٹفک جانچ میں اس کی یہ شکایت جھوٹی ثابت ہوئی۔


پولیس سے بعد ازاں اس نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا اغوا اور اجتماعی عصمت دری نہیں ہوئی۔ وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گئی تھی اور گھر آنے میں تاخیر ہونے پر ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لئے جھوٹی کہانی بنائی تھی۔ اس نے ماں کو آٹو ڈرائیور کی جانب سے اس کا اغوا کرنے اور اجتماعی عصمت دری کی کہانی سنائی، لیکن اس کی ماں نے فوراً پولیس کو اطلاع دی تھی اور پولیس نے طالبہ کو ایک سنسان مقام سے اسپتال منتقل کر دیا تھا اور اس سلسلے میں کئی فراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

طالبہ نے پولیس کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس کی پوچھ گچھ میں طالبہ نے اعتراف کیا کہ اس نے فرضی کہانی بنائی تھی، اس واقعہ کے بعد سے طالبہ اپنی دادی کے گھر مقیم تھی اس نے منگل کی رات گھر میں موجود دادی کی شوگر کی گولیاں بڑی مقدار میں کھا لیں جس کے بعد اس کو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی موت واقع ہو گئی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔