قومی

ممبئی: سینکڑوں دوکانداروں پر گری بجلی، امانہ شاپنگ سینٹر قانونی ریکارڈ سے غائب

سینکڑوں دوکانداروں پر اس وقت بجلی سی گر پڑی جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے جو دکانیں خریدی تھیں، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سرکاری ریکارڈ میں ان دوکانوں کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے۔

علامتی تصویر

یو این آئی

تصویر کا استعمال علامتی طور پر کیا گیا ہے

ممبئی: قلب ممبئی میں موجودمشہور زمانہ منیش مارکیٹ کے قریب واقع امانہ شاپنگ سینٹرکے سینکڑوں دوکانداروں پر اس وقت بجلی سی گر پڑی جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی محنت کی کمائی سے یہاں واقع امانہ شاپنگ سینٹر میں جو دکانیں خریدی تھیں، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے سرکاری ریکارڈ میں ان دوکانوں کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے! یعنی موٹی موٹی رقومات دے کر دوکانیں خریدنے کے باوجود ان کی یہ دکانیں غیر قانونی ہی ہیں۔ اس روح فرساانکشاف کے بعدانہیں یہ محسوس ہوا کہ’’ تنور بلڈرس‘‘ کے غلام نبی رمضان تنور، رقیہ غلام نبی، عارف غلام نبی اورآصف غلام نبی نے انہیں منصوبہ بند انداز میں انہیں بری طرح ٹھگ لیا ہے۔

اس معاملہ میں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں متاثردوکانداروں نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں ان کے وکیل ایڈوکیٹ معروف خان اور ایڈوکیٹ سؤربھ رانے نے بتایا کہ اس دھوکہ بازی کے خلاف دوکانداروں نے متعدد بار تنور بلڈر کی اس جعلسازی اور دھوکہ دہی کے خلاف شکایت درج کرنے کی کوششیں کیں لیکن ایڈشنل پولیس کمشنر کی ہدایت کے باوجود ایم آر اے مارگ پولیس اسٹیشن نے تا دم تحریر ان دھوکہ بازوں کے خلاف کوئی شکایت اور ایف آئی آر درج نہیں کی ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے ہے کہ اس معاملے میں پولیس ملزم بلڈر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔

عیاں رہے کہ مذکورہ شاپنگ سینٹرسے قبل یہاں ایک برف فیکٹری تھی۔انہوں نے بتایا کہ ۱۰۰۲?میں تنور بلڈر اینڈ ڈیولپر نے یہاں اپنا نام ونہاد شاپنگ سینٹرتعمیر کیا تھاجبکہ یہاں پر اس وقت صرف 12سے 14دوکانیں ہی تھیں لیکن بغیر کوئی پلان منظور کیئے تنور بلڈر نے یہاں 125دکانیں تعمیر کر دیں اور موٹی موٹی رقمیں وصول کرتے ہوئے ان سبھی دوکانو ں کو فروخت کردیا۔

اس معاملے میں جب ہم سٹی سول کورٹ گئے تو وہاں ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ اس شاپنگ سینٹرکی ضمن میں ڈیولپر نے سرے سیکوئی منظور شدہ پلان میونسپل کارپوریشن میں پیش ہی نہیں کیا تھا۔بس ایک ایگریمنٹ کرتے ہوئے بلڈر نے یہ دوکانیں فروخت کر دیں اور چیک کے ذریعے رقومات حاصل کیں۔

اس معاملے میں عدالت میں مذکورہ معاملے کی پیروی کرنے والے دونوں ایڈوکیٹ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بلڈر اور ڈیولپر کا یہ عمل سراسر غیرقانونی تھا۔جس سے دوکاندار آشنا نہیں تھے مگر جب انہیں علم ہوا کہ ان کے ساتھ فریب کیا گیا ہے تو امانہ شاپنگ سینٹرکے52دوکانداروں نے انفرادی طور پر بلڈر کے خلاف پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں میں تحریری شکایت کی کہ ان کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی ہے۔ لاکھوں روپے خرچ ہونے کے بعد بھی ان کی دوکانیں غیر قانونی ہی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی دکانوں کا ایگریمنٹ تک رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہے۔

’’مرے پہ سو درّے‘‘ کے مصداق گزشتہ دنوں جب میونسپل کارپوریشن کی جانب سے امانہ شاپنگ سینٹرکے دوکانداروں کو یہ نوٹس ملا کہ وہ پراپرٹی ٹیکس کی مد میں آکروڑ ۰۴ء4 لاکھ روپیکارپوریشن میں جمع کریں (جسے بلڈر نے نہیں ادا کیا تھا) یہ نوٹس ملتے ہی دوکانداروں کے ہوش اڑگئے۔ جبکہ ’مین ٹیننس‘ کے نام پر ڈیولپر دوکانداروں سے ہر ماہ بلڈر1200روپے وصولتے رہے تھے۔ اس معاملہ میں’ لینڈ لارڈ‘ اور بلڈر نے ساز باز کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے ’وارے نیارے ‘کرلئے اور کارپوریشن کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو بھی چونا لگایا۔انہوں نے بتایا کہ سال2001میں تنور بلڈر کو مکوکا کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا نام داود گینگ سے جوڑا گیا تھا۔

امانہ شاپنگ سینٹرکے مظلوم دوکاندار کا مطالبہ ہے کہ ان کی دوکانیں موفا ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کی جائیں اور ڈیولپر نے الاٹمنٹ لیٹر دیتے وقت انہیں یقین دلایا تھا کہ ان کی دوکانوں کا رجسٹریشن ہو گا تو ان کی دوکانیں رجسٹرڈ کی جائیں۔ یہاں کے دوکانداروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس معاملہ میں بلڈر کے خلاف انکوائری کرتے ہوئے مجرمانہ کیس فائل کیا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے اور انصاف سے محروم دکانداروں کو ان کا حق اور انصاف دلایا جائے۔اس پریس کانفرنس میں امانہ شاپنگ سینٹر کے متعدد متاثر دوکاندار بھی موجود تھے۔