شہید ٹیپو سلطان کے خلاف مظاہرہ کر رہے سینکڑوں بی جے پی کارکنان گرفتار

پولس نے مقام تقریب پر دعوت نامہ کے ساتھ نہ آنے والے کو جب روکا تو مخالفت شروع ہوگئی۔ مسٹر بوپیا کے ساتھ بی جے پی کارکنان کو بھی وراج پیٹ میں گرفتار کیا گیا جہاں وہ کالی پٹی پہنے مظاہرہ کررہے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بنگلورو: کرناٹک کے کوڈاگو ضلع میں ٹیپو سلطان کی سالگرہ کی تقریب کے خلاف مظاہرہ کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین اراکین اسمبلی اور سینکڑوں کارکنان کو پولس نے گرفتار کرلیا۔ 10 نومبر کو بی جے پی نے ٹیپو سلطان کے سالگرہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ 19ویں صدی کا کٹر مذہبی حکمراں تھا اور کرناٹک و کیرالہ میں بڑی تعداد میں ہندوؤں کو قتل کرنے میں ملوث تھا۔ بی جے پی نے ٹیپو سلطان پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ انھوں نے لوگوں کو تبدیلی مذہب کے لئے مجبور کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

ہفتہ کے روز جب کوڈاگو میں حکم امتناعی نافذ ہونے کے باوجوداسمبلی کے سابق اسپیکر اور وراج پیٹ کے ایم ایل اے کے.جی. بھوپیا کو بی جے پی کارکنان کے ساتھ ٹیپو سلطان کے یوم پیدائش سے متعلق تقریب کی مخالفت میں ریلی نکالنے کی کوشش کرنے پر پولس نے گرفتار کر لیا۔ اسی طرح ایم ایل سی سنیل سبرامنیم کو کئی کارکنان کے ساتھ کالا جھنڈا دکھاکر مظاہرہ کرنے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے کے الزام میں مدیکیری سے گرفتار کیا گیا۔ مدیکیری کی نمائندگی کرنے والے ایم ایل اے اپاچو رنجن کو بھی پہاڑی قصبے سے گرفتار کیا گیا۔ مسٹر سبرامنیم اور مسٹر رنجن کو بھی پولس نے بحث کرنے کے ساتھ ساتھ کارکنان کو کالے کپڑے اور جھنڈے دکھا کر سالگرہ کے خلاف نعرے بازی کرنے پر گرفتار کیا ۔ مظاہرین نے کانگریس- جنتا دل (سیکولر) اتحاد حکومت کے خلاف بھی نعرے بازی کی ۔

ذرائع کے مطابق پولس نے تقریب کے مقام پر دعوت نامہ کے ساتھ نہ آنے والے کو جب روکا تو مخالفت شروع ہوگئی۔ مسٹر بوپیا کے ساتھ بی جے پی کارکنان کو بھی وراج پیٹ میں گرفتار کیا گیا جہاں وہ کالی پٹی پہنے ہوئے مظاہرہ کررہے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ میسور، مانڈیا ضلعوں میں بی جے پی کارکنان نے کوئی مخالفت نہیں کی۔ میسور شہر کی پولس نے احتیاطی تدابیر اور قانون و انتظام قائم رکھنے کے لئے جمعہ سے دو دنوں کے لئے حکم امتناعی لگا رکھا ہے۔ شری رنگاپٹنم میں بھی قانون و انتظام بنائے رکھنے کے لئے بڑی تعداد میں پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 10 Nov 2018, 6:09 PM