کشمیر: بی ایس این ایل دفاتر پرلوگوں کی زبردست بھیڑ ، پولیس کا لاٹھی چارج

بی ایس این ایل دفتر کے باہرجب لوگوں کی طویل قطار لگ گئی تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اہلکاروں نے لاٹھیاں برسا کر ان کو وہاں سے منتشر کردیا۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

وادی کشمیر میں مواصلاتی خدمات کی معطلی کے پیش نظر لوگوں نے پھر سے سرکاری مواصلاتی کمپنی بھارت سنچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) کے دفاتر کے چکر کاٹنا شروع کردیے ہیں۔ تاہم ماضی کے برعکس انہیں اب پولیس کی لاٹھیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

جمعہ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد سری نگر کے ایکسچینج روڑ پر واقع بی ایس این ایل دفتر پہنچی۔ وہ یہاں اپنے بی ایس این ایل لینڈ لائن و موبائل فون نمبرات کی بل جمع کرنے، نئے سم کارڈ حاصل کرنے اور بند پڑے لینڈ لائن و موبائل نمبرات کو بحال کروانے کے لئے آئے تھے۔


تاہم جب بی ایس این ایل دفتر کے باہر لوگوں کی طویل قطار لگ گئی تو وہاں پہلے سے تعینات پولیس اہلکاروں نے لاٹھیاں برسا کر ان کو وہاں سے منتشر کردیا۔

یو این آئی اردو کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ وادی میں مواصلاتی خدمات کی معطلی کے ساتھ ہی بی ایس این ایل کے مرکزی دفتر پر کورونا وائرس کے خطرات کے باوجود لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہونا شروع ہوگیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ جمعہ کو بھی سخت سیکورٹی پابندیوں کے باوجود سینکڑوں افراد بی ایس این ایل دفتر پہنچے۔ تاہم جب دوپہر کے بعد بھی قطار چھوٹی ہونے کے بجائے طویل ہوتی گئی تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ان پر لاٹھیاں برسائیں اور پبلک ایڈرس سسٹم کے ذریعے اعلان کیا کہ کسی کو بھی قطار میں کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بی ایس این ایل کے پی آر او مسعود بالا نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ پھر سے سم کارڈ حاصل کرنے اور لینڈ لائن نمبرات بحال کروانے کے لئے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا: 'لوگ پہلے سم کارڈ یا لینڈ لائن نمبر حاصل کرتے ہیں اور کچھ وقت تک استعمال کرنے کے بعد بل جمع کرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن جب انہیں ضرورت پڑتی ہے تو پھر آجاتے ہیں۔ بہتر یہی ہوتا کہ اگر وہ سم کارڈ یا لائن لائن نمبرات حاصل کرتے ہیں تو اس کو چالو حالت میں رکھیں تاکہ انہیں بعد میں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے'۔


بی ایس این ایل دفتر کے باہر صارفین پر لاٹھی چارج کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: 'یہاں پر پولیس تھانہ کوٹھی باغ کے سینئر افسران موجود تھے۔ جب سماجی دوری پر عمل درآمد نہیں ہوا تو پولیس اہلکاروں نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا'۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلعی ہیڈکوارٹروں میں واقع بی ایس این ایل دفاتر پر بھی لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے۔ ان جگہوں پر بھی متعلقہ پولیس تھانوں نے سماجی دوری کو یقینی بنانے کے لئے اپنی نفری تعینات کردی ہے۔


دریں اثنا وادی کے سبھی دس اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات جمعے کو مسلسل تیسرے دن بھی منقطع رکھی گئیں جس کی وجہ سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تاہم بی ایس این ایل کی لینڈ لائن اور پوسٹ پیڈ موبائل فون خدمات کو پابندی سے متثنیٰ رکھا گیا ہے۔

کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار کے مطابق بدھ کو مواصلاتی خدمات منقطع کرنا ضروری بن گیا تھا اور یہ خدمات صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی بحال کردی جائیں گی۔ واضح رہے کہ 6 مئی کو جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں حزب المجاہدین کے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو سمیت چار جنگجوئوں کی ہلاکت کے ساتھ وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ فون خدمات بھی منقطع کی گئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔