بہار میں سیلاب نے مچائی تباہی، 23 لوگوں کی موت

راجدھانی پٹنہ کے کئی علاقے ڈوب گئے ہیں، سڑکیں تالاب بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ وزراء اور اراکین اسمبلی کے بنگلوں تک میں پانی گھس گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پٹنہ: بہار میں بھاری بارش نے تباہی مچا رکھی ہے۔ ریاست کی راجدھانی پٹنہ سمیت کئی اضلاع میں سیلاب جیسے حالات ہیں۔ بارش اور سیلاب سے ریاست میں اب تک 23 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور کئی لوگوں کے بے گھر ہونے کی بھی خبر آ رہی ہے۔ بھاگلپور میں بھاری بارش کے بعد دیوار گرنے کے تین الگ الگ واقعات میں چھ افراد کی موت ہو گئی۔ وہیں دوسری طرف پٹنہ کے کھگول میں ایک آٹو پر پرانا درخت گرنے سے چار افراد کی موت ہو گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی جگہ اسکول اور کالج بند کر دیئے گئے ہیں۔ راجدھانی پٹنہ کے کئی علاقے ڈوب گئے ہیں، سڑکیں تالاب بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ وزراء اور اراکین اسمبلی کے بنگلوں تک میں پانی گھس گیا ہے۔

بہار میں سیلاب نے مچائی تباہی، 23 لوگوں کی موت

پورے بہار میں گزشتہ دو دن سے مسلسل بارش ہو رہی ہے اور محکمہ موسمیات نے پٹنہ اور بھاگلپور سمیت 15 اضلاع میں ریڈ الرٹ جاری کر رکھا ہے۔ مطلب صاف ہے کہ صورت حال ابھی اور بگڑ سکتی ہے۔ لوگوں کو گھروں سے نہیں نکلنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آرایف کی ٹکڑیاں بھی امدادی کام میں لگی ہوئی ہیں۔

بہار میں سیلاب نے مچائی تباہی، 23 لوگوں کی موت

بھاگلپور شہر کے ہنومان گھاٹ، مایا گنج اور مہاراج گھاٹ میں یہ واقعات ہوئے۔ بھاری بارش کے بعد دیواریں گر گئیں، جس میں لوگ دب گئے اور ان کی موت ہو گئی۔ وہیں، پٹنہ کے کھگول میں بھاری بارش کے بعد سواریوں سے بھرے آٹو پر ایک پرانا اور بہت بڑا درخت گر گیا۔ درخت کے نیچے آٹو میں لوگ دبے رہ گئے۔ اس واقعہ میں چار افراد کی موت ہو گئی۔

بہار میں مسلسل بارش اور سیلاب سے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ راجدھانی پٹنہ میں بھی بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں گھس گیا ہے۔ حالات یہ ہو گئے ہیں کہ راجدھانی کے کئی پاش علاقوں میں کشتی چل رہی ہیں۔

وہیں دوسری طرف ریاست کی بی جے پی۔جے ڈی یومخلوط حکومت کے بارش اورسیلاب سے نمٹنے کے تمام دعوے کھولے ثابت ہو رہے ہیں۔ راجدھانی پٹنہ میں جگہ جگہ پانی جمع ہونے سے کئی علاقے تالاب میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ لگاتار ہو رہی بارش سے شہرمیں اتنا پانی جمع ہوگیا ہے کہ شہرکے تقریباً 80فیصد گھروں کے گراؤنڈ فلورمیں پانی گھس چکا ہے۔ اسپتالوں،اسکولوں عوامی دفاتر، وزراء، لیڈروں کے گھروں میں بھی پانی ہے۔

بہار میں سیلاب نے مچائی تباہی، 23 لوگوں کی موت

ان سب حالات میں صوبے کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اسے قدرتی آفت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ مکمل طور مستعد ہے اور لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سیلاب کی صورتحال پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کل سے ہی کئی علاقوں میں شدید بارش ہو رہی ہے، گنگا میں بھی پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لئے تمام انتظامات کیے گئے ہیں اور انتظامیہ مستعدی سے لوگوں کی مدد کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حالت ہے کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے، یہ ایک قدرتی آفت ہے۔ سبھی کو پینے کا پانی مہیا کرانے کے لئے انتظامات کیے جا رہے ہیں، ساتھ ہی سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لئے کمیونٹی رسوئی گھرچالو کیے جا رہے ہیں۔

پٹنہ کے ڈی ایم کمار روی نے اگلے حکم تک تمام اسکولوں، کالجوں اور کوچنگ کو بند رکھنے کو کہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے شہر کے نچلے علاقے زیادہ متاثر ہیں۔ امدادی کام کے لئے 6 رسپانس ٹیمیں کام کر رہی ہیں، کنٹرول روم کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ڈی ایم کا کہنا ہے کہ بارش رکے گی تو امدادی کاموں میں رفتار آ سکے گی اور جان ومال کے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ جن علاقوں میں پانی زیادہ بھر گیا ہے، وہاں سے لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش ہو گی مگر بارش مسلسل ہو ہی رہی ہے، پانی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

بھاری بارش کی وجہ سے بہار میں ریلوے ٹریفک اور فضائی خدمات میں بھی بری طرح رخنہ پڑاہے۔ پانی سے گھرے پٹنہ شہر کی کئی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ لوگ شہر کے خراب پانی نکاسی نظام کو کوس رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین پٹنہ نگرنگم کو’پٹنہ نرک نگم‘ کہہ رہے ہیں۔