عمر خالد پر حملہ کرنے والا سی سی ٹی وی میں بھاگتا نظرآیا

دہلی کے انتہائی محفوظ اور حساس علاقہ رفیع مارگ پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر کل دوپہر جے این یو طلباء یونین کے سابق رہنما عمر خالد پر نامعلوم حملہ آور نے جان لیوا حملہ کیا تھا جس میں وہ بچ گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر جے این یو کے طالب علم عمر خالد پر حملہ کرنے والے کی تصویر سامنے آئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور کی تصویر وٹھل بھائی پٹیل روڈ پر لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرہ میں قید ہوئی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کو قبضہ میں لے کر پولس ملزم کی تلاش میں کر رہی ہے ، پولس کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ملزم کو گرفتار کر لے گی۔

واضح رہے پیر کی دوپہر دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب واقع کانسٹی ٹیوشن کلب کے باہر جے این یو طلباء یونین کے سابق رہنما عمر خالد پر نا معلوم حملہ آور نے جان لیوا حملہ کیا تھا ، حالانکہ اس حملہ میں عمر خالد بال بال بچ گئے۔ عمر خالد نے بتایا کہ ’’ کل دوپہر ڈھائی بجے ہیٹ کرائم کے خلاف یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کا ’خوف سے آزادی ‘ نام سے ایک پروگرام تھا جس سے میں بھی جڑا ہوا ہوں۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے کچھ دوستوں کے ساتھ میں باہر کچھ کھانے پینے کے لئے گیا تھا ۔ جب ہم وہاں سے چائے پی کر واپس آ رہے تھے تبھی ایک شخص نے پیچھے سے آ کر مجھے پکڑ کر گرا دیا اور مجھ پر پستول تان دی ، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پوری قوت سے اپنے سے دور ہٹانے کی کوشش کرنے لگا ۔ میرے دوستوں نے بھی اسے دھکا دیا جس سے گھبراکر وہ شخص وہاں سے بھاگنے لگا۔ تھوڑی دور بھاگنے کے بعد اس نے سڑک پار کر کے ہوا میں گولی چلائی اور وہاں سے فرار ہو گیا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next