حیدرآباد: ہوٹل تو کھل گئے لیکن بیشتر ملازم ہوئے بے روزگار!

بے روزگار ہوئے ایک ہوٹل ملازم کا کہنا ہے کہ مالک نے صرف ہیڈ باورچی، کاؤنٹر منیجر اور ایک سامان دینے والے کو ہی ملازمت دی ہے اور کسی اور کو ملازمت پر نہیں رکھا گیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا سلسلہ جاری ہے اور شہر معمول کے حالات کی سمت واپس ہو رہا ہے۔ تاہم ہوٹلوں اور رسٹورنٹس کے کھل جانے کے باوجود ان میں قبل ازیں کام کرنے والے بیشتر افراد ہنوز بے روزگار ہیں۔ بے روزگار ہونے والے افراد میں سے ہی ایک کا نام ہے سگناکر ریڈی۔ سگناکر ریڈی آج کل تلگو تلی پارک سے آنے والے ٹریفک کو دیکھتا رہتا ہے جہاں وہ گاڑیوں کا منتظر ہے جو تعمیراتی کام یا زراعت کے لئے مزدوروں کو لے جانے کی خواہشمند ہوتی ہیں۔

38سالہ سگناکر 24مارچ سے پارک میں ہی رہ رہا ہے جب اس کو ہوٹل جس میں وہ کام کرتا تھا سے نکال دیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگرچہ کہ لاک ڈاون کے قواعد میں نرمی دی گئی ہے تاہم ہوٹل کے مالک نے اس کو ملازمت نہیں دی کیونکہ ہوٹلوں میں کسی کو بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے اور ویٹرس کی ضرورت اب باقی نہیں رہی۔ سگناکر نے کہا کہ جب اس کو ملازمت سے علیحدہ کیا گیا تو اس کے پاس صرف تین ہزار روپئے تھے اور اب اس کے پاس صرف تین روپئے ہی رہ گئے ہیں۔

سگناکر کا تعلق بھدرادری کوتہ گوڑم ضلع سے ہے۔ اس کے پاس کوئی فون نہیں ہے اور اس کی مدد کے لئے کوئی بھی آگے نہیں آرہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کو گاؤں واپس ہونے کے لئے 400 روپئے درکار ہیں۔ تلگوتلی پارک میں کئی افراد آرام کر رہے ہیں جن میں بیشتر کا تعلق اے پی اور تلنگانہ کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال سے ہے۔ یہ تمام سابق میں حیدرآباد کے مختلف مقامات پر واقع ٹی اسٹالس، ایرانی کیفیز، رسٹورنٹس میں کام کرچکے ہیں تاہم سگناکر کی طرح یہ تمام افراد بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ان کو رہنے کے لئے چھت نہیں ہے۔ سگناکر نے کہا کہ بعض ہوٹلوں کے مالکین نے ملازمین کو لاک ڈاون کے دوران رہنے کی اجازت دی تھی تاہم اس کے آجر نے اس کو ملازمت سے نکال دیا اور ہوٹل خالی کرنے کی ہدایت دی۔

آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والا جیون بھی لاک ڈاون کی شروعات سے ہی اس پارک میں رہ رہا ہے کیونکہ اس کو بھی ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔ گھر جانے کی اس کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ جیون کا کہنا ہے کہ اترپردیش، بہار اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ٹرینوں کے ذریعہ روانہ ہوگئے جبکہ اے پی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ اسی لئے وہ یہاں پھنس گیا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ ہوٹل جس میں وہ قبل ازیں کام کرتا تھا کے مالک نے صرف ہیڈ باورچی، کاونٹرمنیجر اور ایک سامان دینے والے کو ہی ملازمت دی ہے اور کسی اور کو ملازمت پر نہیں رکھا گیا ہے۔ گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی) کی جانب سے فراہم کردہ سبسیڈی والی غذائی اشیا کی مدد سے اب تک رہ پائے تاہم جی ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ ان کی خدمات 31جون کو ختم ہو جائیں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 16 Jun 2020, 5:11 PM
next