ہوٹل اور ریستران مالکان سبزی فروخت کرنے پر مجبور

کورونا وبا نے ہوٹل اور ریستران کے کاروبار کو بری طرح سے متاثر کیا ہے، کاروباریوں کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ہوٹل اور ریستران مالکان آج سبزیاں فروخت کرنے کو مجبور ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وبا نے ہوٹل اور ریستران کے کاروبار کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔ کاروباریوں کو لاکھوں کروڑوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ہوٹل اور ریستران مالکان آج سبزیاں فروخت کرنے کو مجبور ہو گئے ہیں۔ سیاحت کے اہم مقام ہماچل پردیش میں بھی کاروباریوں کو متاثر ہونا پڑ رہا ہے اور کچھ کاروباریوں نے ریڈی میڈ گارمنٹ تو کچھ نے سبزی بیچنی شروع کر دی ہے۔

لاک ڈاؤن سے پہلے تک ریستراں چلانے والے بابی کمار نے بتایا کہ وہ پہلے چائنیز فوڈ کے علاوہ دیگر کھانے بھی گاہکوں کے لئے تیار کرتے تھے لیکن اب انہیں ریڈی میڈ کپڑوں کا کاروبار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ بابی کمار کو بھی سینکڑوں مزید کاروباریوں کی طرح ہزاروں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ہوٹل چلانے والے امت شرما نے بتایا کہ اب وہ پھل اور سبزی بیچنے کو مجبور ہیں۔ ہوٹل مالک ویویک کمار نے کہا کہ سیاحت سے وابستہ ہونے کے سبب ان کا کاروبار تاحال معمول پر نہیں آ سکا ہے۔ اپریل مہینے سے اب تک ان کے کمرے ویران پڑے ہیں اور آخر کار انہیں بھی پھل-سبزی کا کاروبار کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ مٹھائی فروشوں نے بھی اب اپنی دکانوں کو کیرانہ، کنفیکشنری اور دیگر اشیا کی دکانوں میں تبدیل کر لیا ہے۔

گاہک مٹھائی خریدنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ ویاپار منڈل کے جنرل سکریٹری روپیش سین نے کہا کہ شہر میں 60 فیصد تک کاروبار میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ الیکٹرانکس سامان بیچنے والوں کا کاروبار بھی اس سے متاثر ہوا ہے۔ شادی کی تقریب میں محض 50 لوگوں کی شرکت کی اجازت کی وجہ سے کپڑا وغیرہ کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔ سونے کے زیورات کی دکانوں میں بھی گاہکوں کی بھیڑ کافی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے ابھی تک ویاپار منڈل جوگندر نگر کو ہی 50 کروڑ سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔