یمنا ایکسپریس وے پر دردناک حادثہ، ہولی منانے گھر جا رہے میاں بیوی سمیت 6 مسافروں کی موت
تیز رفتار بس نے وین کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی اور بے قابو ہوکر وین کو پیچھے سے ٹکر ماردی۔ ٹکراتنی شدید تھی کہ وین قریب 10 فٹ دور جاکر گری۔ جس کے نتیجے میں 6 لوگوں کی موت ہوگئی اور متعدد زخمی ہوگئے۔

اترپردیش کے ہاتھرس میں یمنا ایکسپریس وے پر منگل کو عالی الصبح ایک ڈبل ڈیکر بس نے چلتی ایکو وین کو پیچھے سے ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں ایک بڑا حادثہ ہوگیا۔ اس حادثے میں میاں بیوی سمیت 6 لوگوں کی موت ہوگئی اور 7 دیگر زخمی ہوگئے۔ متوفیوں میں سے 3 آگرہ اور 3 راجستھان کے دھول پور کے رہنے والے تھے۔ یہ سبھی لوگ ہولی کے لیے گھر جارہے تھے۔
اطلاع کے مطابق حادثے کا شکار بس دہلی سے گورکھپور جا رہی تھی جبکہ وین دہلی سے دھولپور جارہی تھی۔ اوورٹیک کی کوشش کے دوران ٹکرہوئی۔ ٹکر اتنی بھیانک تھی کہ وین اُچھل کر 10 فٹ دور گری اور اس کا پچھلا حصہ چکنا چور ہو گیا۔ اس حادثے میں بس میں سوار مسافر پوری طرح محفوظ رہے۔ حادثے کے بعد موقع پر کہرام مچ گیا۔ ہر طرف سے چیخ و پکارمچ گئی۔ سڑک پر لاشیں بچھ گئیں جس کی وجہ سے ایکسپریس وے پر جام لگ گیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر کھنڈولی سی ایچ سی بھیجا گیا، جہاں سے 3 کو آگرہ ریفر کر دیا گیا۔ حادثہ سعد آباد کوتوالی علاقہ میں پیش آیا۔ ہاتھرس میں یمنا ایکسپریس وے کے مائل اسٹون 141 پر پرائیویٹ ڈبل ڈیکر بس گورکھپور کی طرف جا رہی تھی۔ وہیں ایکو وین بس کے آگے چل رہی تھی۔ وین میں 13 افراد سوار تھے۔ سبھی لوگ ہولی کا تہوار منانے اپنے اپنے گھر جارہے تھے۔
اطلاعات کے مطابق علی الصبح 4 بج کر 15 منٹ پر تیز رفتار بس نے وین کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی اور بے قابو ہوکر وین کو پیچھے سے ٹکر ماردی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ وین قریب 10 فٹ دور جاکر گری۔ جس کے نتیجے میں 6 لوگوں کی موت ہوگئی اور متعدد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں۔ حادثہ میں زخمی ایکو ڈرائیور کی حالت ناز بتائی جارہی ہے۔ متوفیوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حادثہ تیز رفتاری اور لاپرواہی سے اوور ٹیکنگ کے باعث پیش آیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔