آندھرا پردیش میں خوفناک حادثہ، ڈمپر سے ٹکر کے بعد بس بنی آگ کا گولہ، 14 مسافروں کی موت، 20 زخمی
بس تلنگانہ کے نرمل سے آندھرا پردیش کے نیلور کی سمت جا رہی تھی۔ جب یہ بس رائے ورم کے قریب کان کنی کے علاقے سے گزر رہی تھی، تبھی سامنے سے آرہے بجری سے لدے ڈمپر (ٹپر ٹرک) سے اس کی بھیانک ٹکر ہو گئی۔

آندھرا پردیش کے پرکاشم (مارکا پورم) ضلع میں جمعرات کی صبح ایک خوفناک سڑک حادثے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ رائے ورم کے قریب ایک پرائیویٹ بس اور ڈمپر کے درمیان بھیانک ٹکرہوگئی جس کے بعد بس میں آگ لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ کئی مسافر بس کے اندر ہی پھنس گئے اور باہر نکلنے کا موقع تک نہیں مل سکا۔ اس المناک حادثے میں تقریباً 14 مسافروں کی موت ہوگئی جبکہ تقریباً 20 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد موقعہ واردات پر کہرام مچ گیا اور آس پاس کے لوگوں نے فوری طور پر بچاؤ اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ انتظامیہ اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھانے اور زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کا کام کیا۔
انتظامی حکام کے مطابق حادثہ جمعرات کی صبح تقریباً 6 بجے اس وقت پیش آیا جب ہری کرشنا ٹریولس کی ایک پرائیویٹ بس تلنگانہ کے نرمل سے آندھرا پردیش کے نیلور کی سمت جا رہی تھی۔ جب یہ بس رائے ورم کے قریب کان کنی کے علاقے سے گزر رہی تھی، تبھی سامنے سے آرہے بجری سے لدے ڈمپر (ٹپر ٹرک) سے اس کی بھیانک ٹکرہو گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ بس کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور چند ہی لمحوں میں بس میں آگ لگ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری بس آگ کے گولے میں تبدیل ہوگئی۔
عینی شاہدین کے مطابق ٹکر کے بعد بس کے اندر افراتفری مچ گئی۔ کئی مسافر سوئے ہوئے تھے اس لیے انہیں سمجھ نہیں آیا کہ اچانک کیا ہوا۔ بس کے پچھلے حصے میں بیٹھے کئی مسافر آگ اور دھوئیں کی وجہ سے باہر نہیں نکل پائے۔ آگ تیزی سے پھیلنے کی وجہ سے مسافروں کو بچنے کا موقع نہیں ملا۔ آگ کے شعلوں اور دھوئیں کی وجہ سے کچھ لوگوں کی دم گھٹنے سے موت ہوگئی جبکہ کئی مسافر سنگین طور سے جھلس گئے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ فائر اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ تاہم آگ اتنی شدید تھی کہ اس پر قابو پانے میں کافی وقت لگا۔ فائر فائٹرز نے تقریباً 3 گھنٹے کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔ جب تک آگ بجھی، تب تک بس مکمل طور پر جل کر تباہ ہوچکی تھی۔ ریسکیوٹیموں نے ملبے سے لاشیں نکالیں۔ مقامی پولیس حکام کے مطابق حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بس کے جلے ہوئے ڈھانچے میں ابھی بھی کچھ لاشیں پھنسی ہو سکتی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا رہی ہیں اور پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہیں۔ متوفیوں کی شناخت اور ان کے اہل خانہ کو حادثے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
حادثے میں زخمی ہونے والے تقریباً 20 مسافروں کو مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے قریبی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کا علاج کر رہی ہے اور انتظامیہ نے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس دوران آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے اس المناک حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔ وزیراعلیٰ نے حادثے کی وجوہات کی تفصیلی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ سے مکمل رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور حکومت متاثرین کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔