دہلی سے وارانسی جارہی سلیپر بس میں لگی آگ، بال بال بچے 38 مسافر

کانسٹیبل ساحل خان نے بتایا کہ ’’آگ کے شعلے پہلے ہی چھت تک پہنچ رہے تھے۔ ہم مسافروں کو اپنا سامان چھوڑنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ اگر ہم دو منٹ بھی تاخیر سے پہنچتے تو بہت سی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں‘‘

<div class="paragraphs"><p>بس حادثہ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی سے وارانسی جا رہی ایک سلیپر بس میں اتر پردیش کے کانپور میں آگ لگ گئی، تاہم پولیس اہلکاروں کی فوری کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔ پولیس افسران نے بتایا کہ دو کانسٹیبلوں کے ذریعہ ریسکیو آپریشن میں تمام 38 مسافروں کو بس سے باہر نکال لیا گیا۔ کانسٹیبل بغیر کسی حفاظتی سامان کے جلتی ہوئی بس میں داخل ہوئے تھے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ایسٹ) ستیہ جیت گپتا نے بتایا کہ یہ واقعہ صبح اس وقت پیش آیا جب بس کی چھت پر رکھے سامان سے دھواں اٹھنے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے آگ تیزی سے پھیل گئی اور پوری بس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے موقع پر افراتفری مچ گئی اور مسافر مدد کے لیے چلانے لگے۔ گپتا نے بتایا کہ کئی لوگ گھبراہٹ میں کھڑکیوں سے باہر کودنے میں کامیاب رہے جب کہ کئی خواتین، بچے اور بوڑھے مسافر اندر پھنسے رہے۔


ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قریب ہی کراسنگ پر ٹریفک ڈیوٹی پر تعینات کانسٹیبل ساحل خان اور پشپیندر نے بس میں آگ دیکھی تو وہ اس کی طرف دوڑے۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی تپش اور دھوئیں کے باوجود دونوں بس میں داخل ہوئے اور مسافروں کو نکالنا شروع کر دیا۔

کانسٹیبل ساحل خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’آگ کے شعلے پہلے ہی چھت تک پہنچ رہے تھے۔ ہم مسافروں کو اپنا سامان چھوڑنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ اگر ہم دو منٹ بھی تاخیر سے پہنچتے تو بہت سی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔‘‘ ساحل اور پشپیندر نے بچوں کو دھوئیں سے بھرے کیبن سے باہر نکالا۔ انہوں نے ایک حاملہ خاتون اور کئی بوڑھے مسافروں کو بھی اپنے بازوؤں پر اٹھا کر باہر نکالا۔ اس کے بعد بھی ایک بچے کے بس میں پھنسے ہونے کی اطلاع ملنے پر وہ پھر سے بس میں داخل ہوئے۔

پشپندر نے کہا کہ ’’دھوئیں میں سانس لینے میں دشواری کے باوجود ہم نے ہر سیٹ کو چیک کیا۔ شکر ہے کہ بچے کو پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔‘‘ فائر اہلکاروں نے بعد میں آگ پر قابو پا لیا لیکن تب تک بس مکمل طور پر جل چکی تھی۔ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آگ میں مسافروں کے زیورات، نقدی اور ذاتی سامان جل کر راکھ ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہے، حالانکہ کئی مسافروں نے چھت پر لگے سامان کی ریک میں شارٹ سرکٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے راما دیوی سے نوبستہ تک تقریباً 10 کلومیٹر تک طویل ٹریفک جام لگ گیا جس سے سینکڑوں گاڑیاں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک پھنسی رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ آگ لگنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔