لکھنؤ کا تاریخی ’گھنٹَہ گھر‘ جہاں خواتین کا احتجاج جاری ہے... حسین افسر

لکھنؤ کے حسین آباد واقع شاہی گھنٹہ گھر اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں گزشتہ 11 روز سے خواتین احتجاج اور مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ ویسے اس گھنٹہ گھر کی ایک روشن تاریخ رہی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

حسین افسر

دنیا کے کچھ مقامات اپنے احتجاجات اور تحریکوں کے لئے تاریخ رقم کرتے ہیں۔ دنیا کا کوئی حصہ ہو یا ہندوستان کا کوئی شہر یا اس کا کوئی مقام۔ دہلی کے شاہین باغ کی شہرت کا اندازہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے جہاں تقریباً چالیس روز سے شہریت ترمینی قانون کے خلاف مرد و زن احتجاج میں مصروف ہیں۔ شاہین باغ تاریخ بن چکا ہے اور ہزاروں خواتین اس احتجاج کا محور و مرکز ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے تعارف سے پہلے اس جگہ کو دنیا میں بہت زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اب خبروں کی سرخیوں میں ہے اور تو اور اب بی جے پی نے شاہین باغ کے تعلق سے دہلی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔


اسی طرح لکھنؤ کے علاقہ حسین آباد میں واقع شاہی گھنٹہ گھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں گزشتہ گیارہ روز سے خواتین احتجاج اور مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ حسین آباد گھنٹہ گھر نوابین اودھ کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا، ہندوستان کا سب سے بلند و بالا کلاک ٹاور ہے جس کو 1881 میں وقف حسین آباد کے سرمایہ سے تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ کلاک ٹاور سات سال میں تیار ہوا تھا۔ حسین آباد اودھ کے شاہوں کی دین ہے لفٹینینٹ گورنر جارج کوپر کی لکھنؤ آمد کے سلسلے میں اس بلند و بالا ٹاور کو بنوایا گیا تھا۔ اس زمانے میں اس عظیم گھنٹہ گھر کی تعمیر ایک لاکھ پچھتر ہزار روپئے میں ہوئی تھی۔

لکھنؤ کا یہ گھنٹہ گھر برٹش فن تعمیر کے بہترین نمونوں میں شامل ہے۔ 221 فیٹ بلند اس ٹاور کی تشکیل نواب نصیر الدین حیدر نے متحدہ اودھ صوبے میں اولین لفٹینینٹ جان کوپر کی آمد پر کرائی تھی۔ نصیر الدین حیدر نے اودھ کے خزانے سے سرمایہ مہیا کیا تھا اور اس کا ڈیزائین انگریز انجینرر اسیکل پاینے نے تیار کیا تھا۔ اودھ کی دیگر عمارتوں سے اس کا طرز تعمیر مختلف ہے۔ تاریخی عمارتیں جن میں آصف الدولہ کا بڑا امامباڑہ اور محمد علی شاہ کا چھوٹا امامباڑہ نیز رومی گیٹ کی طرز تعمیر گھنٹہ گھر سے جداگانہ ہے۔ بڑے امامباڑے اور رومی گیٹ کی تعمیر کفایت اللہ تاشقندی کے زیر اہتمام ہوئی تھی جبکہ حسین آباد کے گھنٹہ گھر کی تکمیل ایک انگریز انجینر کی نگرانی میں ہوئی تھی۔


حسین آباد کے گھنٹہ گھر کی کچھ خصوصیات لندن کے گھنٹہ گھر بگ بین سے بھی اہم ہیں۔ اس کی شاندار گھڑی کے اندرونی پہیے بگ بین سے بھی زیادہ بڑے ہیں، اسی کے ساتھ گھڑی کی سوئیاں بندوق کی دھات سے بنائی گئی تھیں۔ 14 فٹ لمبی اور ڈیڑھ انچ موٹے لنگر(پینڈولم) کا سائز لندن کے ویسٹ منسٹر گھنٹہ گھر سے بھی بڑا ہے۔ اس میں گھنٹے کے آس پاس پھولوں کی پنکھڑیوں کی طرز پر گھنٹے نصب ہیں، جو ہر ایک گھنٹے بعد بجتے ہیں۔

حسین آباد کے اس شاہی گھنٹہ گھر کی گھڑی کے اندرونی ساز و سامان حالانکہ کسی حد تک مرمت کے دوران تبدیل ہو چکے ہیں، مگر گھڑی فی الحال کسی نہ کسی صورت سے چل رہی ہے۔ مورخین کے ایک گروہ نے قدیمی گھڑی کے اندرونی پارٹس کو تبدیل کرنے پر سخت اعتراض بھی کیا تھا مگر سرکاری محکموں نے اس احتجاج کو ان سنا کردیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 27 Jan 2020, 11:11 PM