’غداری قانون پر روک کے تاریخی فیصلے سے حکومت کی منمانی پر لگے گا قدغن‘

پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے غداری قانون پر پابندی عائد کرنے کے سپرم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جیلوں میں مقید بے گناہوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوگی

ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
user

یو این آئی

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے غداری قانون پر پابندی عائد کرنے کے سپرم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی فیصلے کے بعد حکومت کی منمانی پر قدغن لگے گی اور جیلوں میں مقید بے گناہوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوگی۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انگریزوں کے بنائے گئے غداری قانون سے جہاں کثیر تعداد میں مجاہدین آزادی کو شدید سزا کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ملک آزاد ہونے کے بعد ساڑھے سات دہائی سے حکومتیں مذکورہ قانون کا بیجا استعمال کر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کا کام کرتی رہی ،اور اپنے مفاد کے لئے حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاتا رہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے غداری قانون پر روک لگاکر جو تاریخی فیصلہ دیا ہے ،اس سے حکومت کی منمانی پر جہاں قدغن لگے گا ،وہیں جیلوں میں مقید بے گناہوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ تعجب کی بات ہے کہ انگریزوں کے بنائے گئے غیر انشانی غداری قانون کو ساڑھے سات دہائی گزر جانے کے بعد بھی ختم نہیں کیا گیا ۔حکومتوں نے اپنے مفاد و اپنے مخالفین اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کے لئے اس قانون کا خوب بیجا استعمال کر بے گناہوں کو جیل بھیجنے و سزا دلانے کا کام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی اقتدار پر قابض ہوئی ہے ،اس نے مذکورہ قانون کا خوب بیجا استعمال کر حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کچلنے ،اور انہیں غداری قانون کے تحت جیل بھیجے کا کام کیا ہے۔

موجودہ بی جے پی حکومت میں غداری قانون کا استعمال ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں ،اور خصوصی طور سے مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہا تھا ۔حکومت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر ، اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگا کر عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو جیل بھیج کر یہ تاثر دیا، کہ جو ان کے خلاف آواز اٹھائے گا ،اس کو غداری قانون کے تحت جیل بھیج دیا جائے گا۔ سی اے اے و این آر سی جیسے سیاہ قانون کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو غدار قرار دے کر خصوصی طور سے طلبہ طالبات و مسلمانوں کو جیل بھیجنے کا کام کیا گیا ،مذکورہ قانون خصوصی طور سے بی جے پی کے لئے مخالفین کو سبق سکھانے کا ایک ہتھیار تھا ۔


سپریم کورٹ نے اس قانون پر روک لگاکر جو تاریخی فیصلہ دیا ہے ،اس سے مذکورہ قانون کے تحت جیل میں مقید لوگوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوگی ،اور بے گناہ لوگوں کو اس قانون کے تحت جیل بھیجنے پر قدغن لگے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔