ہمایوں مقبرہ میں سلمان-کیٹرینہ کی شوٹنگ کے بعد ہنگامہ، مورخین نے کیا اعتراض

سلمان اور کیٹرینہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ فلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ کے لیے دہلی میں ہیں۔ انھوں نے ہمایوں مقبرہ کے احاطہ میں شوٹنگ کی جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے کیونکہ یہاں بھاری مشینوں کا استعمال ممنوع ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مشہور و معروف بالی ووڈ اداکار سلمان خان ان دنوں فلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اور 28 نومبر یعنی بدھ کے روز ان کی شوٹنگ دہلی واقع ہمایوں مقبرہ کے احاطہ میں تھی۔ یہاں سلمان خان اور اداکارہ کیٹرینہ کیف سمیت کم و بیش 200 لوگوں کی ٹیم پہنچی ہوئی تھی۔ اس کی خبر جیسے ہی تاریخ دانوں تک پہنچی، انھوں نے اس پر اعتراض ظاہر کرنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں تاریخ دانوں کے ساتھ ساتھ آثار قدیمہ کے تحفظ سے منسلک لوگوں نے بھی اظہارِ فکر کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

دراصل ہمایوں مقبرہ احاطہ میں موجود عیسیٰ خان کے مقبرہ واقع گارڈن کمپلیکس میں ایک اوپین ائیر جِم بنایا گیا تھا جہاں 200 سے زیادہ ’کرو ممبرس‘ والی فلم پروڈکشن ٹیم نے 28 نومبر کی صبح ساڑھے دس بجے سے لے کر دوپہر ساڑھے تین بجے تک ڈائریکٹر علی عباس ظفر کی آنے والی فلم ’بھارت‘ کی شوٹنگ کی۔ شوٹنگ کے لیے اے ایس آئی (آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا) کی جانب سے جاری ’لیٹر آف لائسنس‘ میں لکھا ہوا ہے کہ ’’کرین یا کوئی بھاری مشین استعمال نہیں کی جائے گی۔ ٹریک ٹرولی وغیرہ کا استعمال بھی اسمارک سے دور کیا جائے گا۔ اسمارک کے اندر کے حصوں کی فلم بندی بھی نہیں کی جائے گی۔‘‘

شوٹنگ کے دوران مقبرہ کے احاطہ میں بھاری ایکوئپمنٹ کے استعمال کیے جانے کی خبروں کے درمیان انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹس اینڈ کلچرل ہیریٹیڈ کی کنوینر سوپنا لیڈل کا کہنا ہے کہ ’’سب سے بڑی فکر کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی شوٹنگ سے اسمارک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آخر ’ہیوی ایکوئپمنٹس‘ کی تعریف کیا ہے؟ اس کی نگرانی کون کر رہا ہے؟‘‘ جے این یو میں تاریخ کے پروفیسر نجف حیدر نے بھی اس شوٹنگ کو افسوسناک قرار دیا اور ایک نیوز میڈیا سے بات چیت کے دوران مشورہ دیا کہ اس طرح کی شوٹنگ جب ہو تو موقع پر آثار قدیمہ کے تحفظ میں لگے لوگوں یا ماہرین کو موجود رہنا چاہیے۔

یہاں قابل غور ہے کہ فلم کی شوٹنگ سے جڑے لوگ لائٹ، کیمرہ اور جِم ایکوئپمنٹس کو عیسیٰ خان کے مقبرے والے کچے راستے سے لے کر جا رہے تھے جس سے وہاں ہو رہی تعمیرات کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس وقت وہاں مشہور تاریخ داں سہیل ہاشمی بھی موجود تھے۔ انھوں نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے خاص بات چیت کے دوران بتایا کہ ’’اگر جِم لگانا ہی تھا تو پارک میں لگاتے۔ یہ ایک قدیم وراثت ہے جسے نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہیے۔‘‘ سہیل ہاشمی نے یہ بھی بتایا کہ جب سلمان خان وہاں بنے راستے پر سائیکل چلا رہے تھے تو کافی بھیڑ موجود تھی اور انھیں قابو میں کرنے کے لیے ضروری پولس بھی موجود نہیں تھی۔ اس پورے معاملے میں اے ایس آئی کے ایک افسر نے کہا کہ ’’سائیکل چلانے یا جِم لگانے کی اجازت غالباً نہیں دی گئی ہوگی۔ انچارج سے اس بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ کیا شوٹنگ کے دوران کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 29 Nov 2018, 11:09 AM