’اس کی قربانی نے سینکڑوں شہریوں کی جان بچائی‘، بیٹے مدثر کی شہادت پر والد کا اظہارِ فخر

مدثر کے والد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ اس کی (بیٹے کی) قربانی کی وجہ سے 1000 شہریوں کی جان بچ گئی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے جان دے دی، وہ واپس نہیں آئے گا لیکن مجھے فخر ہے۔‘‘

موت، علامتی تصویر
موت، علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں بدھ کو سیکورٹی فورسز نے جیش محمد کے تین پاکستانی دہشت گردوں کو مار گرایا۔ کریری علاقے کے نازی بھٹ میں ہوئے اس تصادم میں پولیس اہلکار مدثر بھی شہید ہو گئے۔ دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے شہادت دینے والے مدثر کے والد نے اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ اس کی (بیٹے کی) قربانی کی وجہ سے 1000 شہریوں کی جان بچ گئی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے جان دے دی، وہ واپس نہیں آئے گا لیکن مجھے فخر ہے۔ پوری برادری فخر کر رہی ہے۔ اس نے لڑتے لڑتے جان دے دی۔‘‘ مدثر کے والد کے اس بیان کو جموں و کشمیر پولیس نے ری ٹوئٹ کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن لگاتار جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز نے جنوری سے اب تک لشکر طیبہ اور جیش محمد سے جڑے 26 بیرون ملکی دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ آج کپواڑہ ضلع میں سیکورٹیف ورسز نے دراندازی کی کوشش کو ناکام کرتے ہوئے لشکر کے تین دہشت گردوں کو مار گرایا۔ کشمیر زون کے پولیس انسپکٹر جنرل وجئے کمار نے بتایا کہ اس سال مارے گئے 26 بیرون ملکی دہشت گردوں میں سے 14 مسعود اظہر کی تنظیم جیش سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ باقی 12 کا تعلق حافظ محمد سعید کی تنظیم لشکر سے ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔