طنز و مزاح: وقت آ گیا کہ سورج، چاند، ہوا، پانی، پھل، سبزی کی ذات طے کی جائے

میں دل کی گہریوں سے یوگی آدتیہ ناتھ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہنومان کی ذات کا اعلان کر دیا، رام، کرشن سب کی ذات سب جانتے ہیں لیکن کسی کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ ہنومان کی بھی کوئی ذات رہی ہوگی۔

By وشنو ناگر

اب وقت آ گیا ہے کہ ہنومان ہی کیا سورج، چاند، ستاروں، سیاروں، ہوا، پانی، دھوپ، بارش، سردی، درخت، پھل، سبزی، اناج، شیر، چوہے، کوے، کوئل، ہوائی جہاز، ریل، بس، کار، لال، پیلے، ہرے رنگ وغیرہ کی ذات طے ہونی چاہیے۔ یہی نہیں ان کے خاندان، گوتر بھی طے ہو جانے چاہیے۔ سب کو ہندو بنا دینا چاہیے اور جو اس ڈھانچے میں فٹ نہ بیٹھتا ہو اسے مسلم، عیسائی وغیرہ جیسے مذہب سے وابستہ کرکے ’غدار‘ قرار دینا چاہیے۔ ’ہندو راج‘ آ گیا ہے، تو اب اتنا تو ہونا ہی چاہیے۔

گزشتہ ساڑھے چار سال میں ملک نے اتنی ترقی تو کر ہی لی ہے کہ ہم ترقی کی اس سطح پر پہنچ کر دنیا کو بتا سکیں کہ ہم کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں۔ کم از کم اس معاملہ میں جگت گرو (دنیا کا گرو) ہونے کا اعزاز دینے میں امریکہ، روس، چین، جرمنی کسی کو دقت نہیں ہوگی اور یہ اس حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔ پھر تو مودی جی اور یوگی آدتیہ ناتھ جی کا راہل گاندھی تو کیا مہاتما گاندھی بھی زمین پر آکر بال باكا نہیں کر پائیں گے۔ اگرچہ، یوگی آدتیہ ناتھ جی تو بال منڈا كر ہی رہتے ہیں اور مودی جی کی تو مکمل شخصیت ہی بانکا ہے تو ظاہر ہے کہ بال بھی باكے ہیں، انہیں کوئی بانکا اور کیا کرے گا!

میں دل کی گہریوں سے یوگی جی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہنومان جی کی ذات کا اعلان کر دیا۔ صحیح بھی ہے، رام، کرشن سب کی ذات ہے اور سب جانتے ہیں لیکن کسی کی توجہ اس طرف نہیں گئی کہ ہنومان کی بھی تو کوئی ذات ہوگی۔ تلسی داس تک کی اس اہم حقائق کی جانب توجہ نہیں گئی۔ اتنا بڑا کوی (شاعر) اور اتنی چھوٹی سی بات پکڑ نہیں پایا، افسوس ہے۔ اب کہنا پڑے گا، جہاں نہ پہنچے کوی، وہاں پہنچے ہندووادی سی ایم، جہاں نہیں پہنچے وزیر اعلیٰ وہاں چھلانگ لگا کر پہنچ جائیں پی ایم اور جہاں نہ پہنچے پی ایم وہاں پہنچ جائیں امت شاہ جی۔

یوں بھی اس ملک میں سب ذات کا تمغہ لگا کر ہی پیدا ہوتے ہیں، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان یا عیسائی تو ہنومان بھی یہ جرأت کیسے کر سکتے تھے کہ بغیر ذات کے ہندوؤں کے دیوتا بن جائیں۔

اب فخر سے دلت کہنے لگے کہ ہنومان ہماری ذات کے تھے۔ کہیں پڑھا ہے کہ انہوں نے آگرہ کے ایک ہنومان مندر پر کچھ دیر کے لئے قبضہ بھی کر لیا۔ جنیو پہن کر ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا اور کہا کہ کسی دلت کو یہاں پجاری مقرر کیا جائے۔ پھر ملک بھر کے ہنومان مندروں پر قبضہ کرنے کی بات بھی کہی۔ ابھی آدیواسیوں میں اتنی طاقت نہیں ورنہ وہ دلتوں سے جاکر بھڑ جاتے۔ اور اس مہابھارت میں برہمنوں کا پشتینی دھندہ چوپٹ ہو جاتا۔ اس لئے بی جے پی کو 2019 کے چناؤ سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہنومان جی دلت تھے یا آدیواسی یا برہمن۔

مسئلہ یہ ہے کہ نیشنل ایس ٹی کمیشن کے بھاجپائی صدر نند کمار صاف کہہ چکے ہیں کہ ہنومان جی آدیواسی تھے۔ ادھر برہمن بھی کہنے لگے ہیں کہ ہنومان تو برہمن تھے۔ بھاجپائی سنت بھی کہنے لگے کہ ہنومان جی تو برہمن تھے۔ چھتریوں اور بنیوں کو بھی اب جاگ جانا ہوگا ورنہ یہ مل کر آپس میں فیصلہ کر لیں گے اور وہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

لوک سبھا چناؤ سے پہلے ہنومان جی کی ذات کا فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ اب ہنومان جی کو ہندوؤں کی مختلف ذاتوں کو کروکشیتر کا میدان بنا دینا چاہیے، کیوںکہ رام مندر کا معاملہ اب پٹ رہا ہے۔ تو ’گیان گن ساگر‘ کہے جانے والے ہنومان جی، سنگھیوں کے ہاتھوں اب آپ کی درگت کے دن آ گئے ہیں۔ اے بے پناہ قوت کے مالک، یہ فیصلہ تو ہو کر رہے گا کہ ہنومان کی ذات کیا ہے۔ دلت، آدیواسی، برہم کی جنگ کا بگل بجنے ہی والا ہے۔ ہٹو، بچو ہنومان!